خطبات محمود (جلد 8) — Page 185
185 نوکر نے وہ کاغذ نکال کر کہا۔دیکھ لیں سرکار اس میں یہ شرط لکھی نہیں تو دیکھو یہ اس نوکر کا اپنا کام نہیں تھا۔کیا اگر اس شخص کا اپنا بیٹا ہوتا تو وہ ایسا کر سکتا تھا اور وہ یہ جواب دے سکتا تھا۔تو عظمند انسان اپنے تمام کام کرتا ہے اور شوق سے کرتا ہے۔دیکھو! دنیا میں کونسا کام ہے جو انسان اپنے گھر میں نہیں کر لیتا بد سے بد تر کام بھی لوگ اپنے گھروں میں کر لیتے ہیں۔اپنے بچوں کا پاخانہ پیشاب دھوتے اور ان کی صفائی کرتے ہیں۔کیا لوگ اپنے گھر کی صفائی نہیں کرتے۔درزیوں کا کام ہے۔بڑے سے بڑے گھرانوں میں سینے پرونے کا کام کیا جاتا ہے۔مرمت کا پیشہ ہے۔کئی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو بنا لیتا ہے معمار کا پیشہ ہوتا ہے کہیں سے ایک دو اینٹیں اکھڑی ہوں تو وہ لگا دیتا ہے گھر کے تھوڑے سے کام کے لئے معمار کو نہیں بلا تا۔تو گھر میں وہ لوہار بھی ہوتا ہے ترکھان بھی ہوتا ہے قصاب بھی ہوتا ہے اپنے ہاتھ سے مرغی اور بکرا ذبیح کرتا ہے اور اسے بناتا ہے۔باورچی بھی ہوتا ہے دھوبی بھی بن جاتا ہے۔غرضیکہ کونسا پیشہ ہے جو گھروں میں نہیں کیا جاتا۔چونکہ اس کا وہ اپنا کام ہوتا ہے۔اس لئے اس کے کرنے میں دریغ نہیں کرتا۔وہ گھر میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں ہیڈ کلرک ہوں میں ڈپٹی ہوں۔بڑے بڑے بادشاہ بھی گھر میں کام کرتے ہیں کہیں باغوں کو پانی دیتے ہیں کہیں لکڑی پھاڑ لیتے ہیں۔سلطان عبد الحمید اپنے ہاتھ سے الماری بنا لیتا تھا۔تو اپنے کام میں انسان کسی بات کی پروا نہیں کیا کرتا اور شرطیں بھی نہیں لگایا کرتا۔دفتر میں تو چھ گھنٹے کے بعد کہہ دے گا کہ بس جی اب میرا وقت ختم ہو گیا۔وہاں چھ گھنٹہ کی شرط لگائے گا۔لیکن گھر کے کام میں وہ کبھی نہیں کہتا کہ نہیں کرتا اب وقت پورا ہو گیا ہے بلکہ ہر قسم کے کام کرتا ہے۔پھر حد بندی نہیں لگاتا اور شوق سے کام کرتا ہے۔کسی کا بچہ ڈوب رہا ہو اور وہ اس کو بچانے کے لئے جا رہا ہو اور کوئی شخص اسے منع کرے تو وہ انسان اگر جوش رکھتا ہو گا تب تو میرے خیال میں پہلے اس روکنے والے کا سر پھوڑے گا بعد میں اپنے بچے کو بچانے کی کوشش کرے گا۔اسی طرح اگر دینی کام کو اپنا سمجھا جائے تو وہ کسی کے چڑانے یا روکنے سے اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔بعض لوگ پڑ جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص چونکہ مجھے کہتا ہے اس لئے میں یہ کام نہیں کروں گا۔ہم کہتے ہیں کیا اگر کسی کو کوئی کہے کہ بچہ کو مت نکالو یا اس کی خبر گیری نہ کرو تو کیا وہ بچہ کو غصہ میں آکر نکالے گا نہیں یا اس کی خبر گیری چھوڑ دے گا اس لئے کہ فلاں شخص نے اسے روکا یا اسے چڑانے کے لئے بار بار کہا کہ تم بچہ سے محبت کیا کرو اس کو مارو نہیں یا اس کی خبر گیری اچھی طرح سے کرو تو کیا وہ اس کی خبر گیری چھوڑ دے گا۔ایسے آدمیوں کا جو کسی کے چڑانے یا روکنے کی وجہ سے دینی کام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں تجربہ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں بار بار کہا جائے کہ اپنے بچہ کو ضرور پڑھاؤ اور اس کی خبر گیری ضرور کرو پھر ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ اسے پڑھانا چھوڑ دیتے