خطبات محمود (جلد 8) — Page 184
184 اور نہ کم والے نے اس لئے کم دئے کہ اس کو اس سے کم حکم تھا۔حکم دونوں کے لئے یہی تھا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمام دے دو۔حکم میں وہ دونوں برابر ہیں۔اسی طرح ایک شخص دین کی خدمت کے لئے دس گھنٹے دے سکتا ہے اور دوسرا پانچ گھنٹے۔اب حکم تو دونوں کو اپنا وقت دینے کا ہے اب اگر دس گھنٹے والا پانچ گھنٹے دے تو وہ مجرم ہو گا اور پانچ گھنٹے جو دے سکتا تھا وہ پانچ گھنٹے ہی دے دے تو وہ مقرب ہو جائے گا۔تو ہر ایک مومن دینی احکام کا ایک جیسا مخاطب ہے اور ہر مومن پر دین کی تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔اب ہمیں اسی رنگ میں کام کرنے چاہئیں کہ وہ تمام کام ہم میں سے ہر ایک کے لئے فرض ہیں اور ہم میں سے ہر شخص ان کاموں کا اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح اپنے کاموں کا۔مگر اس میں ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ ہم عقل سے اور سمجھ سے کام کریں۔بیوقوف اور سست الوجود کی طرح کام نہ کریں۔ایک ہوشیار سمجھدار و عظمند کی طرح کام کریں۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کام تو کرے لیکن وہ بیوقوف ہو یا پاگل ہو یا بیمار ہو یا جاہل ہو۔اسی لئے اس کے کام کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ملتے ہیں جن میں کام کی قابلیت تو ہوتی ہے لیکن انہیں کام کرنے کا پتہ نہیں ہوتا۔پھر بہت سے ایسے لوگ ملتے ہیں جن میں کام کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہوتی۔تو ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دینی کام کریں اور سمجھ دار اور عظمند آدمی کی طرح کام کریں۔اب دیکھ لو دنیا میں عقلمند آدمی کس طرح اپنے کام کرتا ہے۔عقلمند اپنے کاموں میں دو باتوں کو ہمیشہ مد نظر رکھتا ہے ایک تو یہ کہ اس کا کام کسی وجہ سے تباہ نہ ہو جائے۔اس کے لئے کوئی حد بندی اور کوئی شرط نہیں لگائے گا اور اس کے لئے جائز ذرائع مہیا کرے گا بلکہ وہ یہ کہے گا کہ جس طرح سے ہو یہ کام پورا ہو جائے۔دوسری بات یہ کہ اس کام کو شوق سے کرتا ہے۔پس ایک تو یہ کہ عقلمند آدمی اس کام میں کامیاب ہونے کے لئے جس قدر صحیح و جائز ذرائع ہو سکتے ہیں انہیں مہیا کرتا اور استعمال کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ خود شوق سے اس کام کو کرتا ہے۔دیکھو کیا کوئی عقلمند دنیا میں ایسا ہے جو اپنے کام کے لئے حد بندی مقرر کرتا ہو یا کوئی شرط قائم کرتا ہو جب کوئی عقلمند دنیا میں ایسا نہیں ملتا تو ایک مومن دینی کام میں کیونکر حد بندیاں اور شرطیں مقرر کر سکتا ہے۔حد بندی کرنے والوں کی مثال تو یہ ہوتی ہے کہ کوئی آقا ظالم تھا جو اپنے نوکروں پر ظلم کرتا تھا۔اس کے پاس ایک نوکر آیا اس نے کہا کہ جتنے کام ہیں وہ مجھے بتا دیجئے اور لکھ دیجئے۔نوکر محنتی اور کام کرنے والا تھا۔وہ تمام کام کر دیتا۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ آقا با ہر سیر کو گھوڑے پر سوار ہو کر گیا اور اس نوکر کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے حکم دیا گھوڑا شریر تھا۔وہ آقا ایک جگہ اس گھوڑے پر سے گر گیا اور ایک رکاب میں آقا کا پاؤں پھنس گیا جس کی وجہ سے اس کا سر زمین سے گھٹتا اور رگڑ کھاتا جاتا تھا۔نوکر کو اس نے آواز دی کہ جلدی آؤ۔اور میرا پاؤں اس رکاب سے نکالو۔اس