خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 175

175 ہیں۔وہ تو غریب ہیں کہ گورنمنٹ پاویوں کو اس مد میں روپیہ دیتی ہے۔مگر ہم احمدی ان سے زیادہ مال دار ہیں اس لئے ہمیں دینے کی ضرورت نہیں۔ہم گورنمنٹ کی یا اس کے افسروں کی اس قسم کی باتوں پر اس لئے چپ رہتے ہیں کہ کسی قسم کا شور و شر اور فساد نہ ہو کیونکہ ہم مذہبا " فساد کو نا پسند کرتے ہیں۔اور آج بھی بالضرورت ان باتوں کا ذکر لایا ہوں تاکہ وہ لوگ جو ہمیں گورنمنٹ کا خوشامدی کہتے ہیں دیکھیں کہ وہ کیسے ظالم ہیں۔پس ہم کو گورنمنٹ کی طرف سے نقصان پہنچے ہیں اور دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔لیکن باوجود اس کے ہم اس اصل کو چھوڑ نہیں سکتے کہ امن سے رہیں اور ہم اس اصل کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ انسان کو خواہ کتنے ہی اعلیٰ فوائد حاصل ہوتے ہوں جن کے لئے اعلیٰ اخلاق چھوڑنے پڑتے ہوں تو ان فوائد کی کچھ پروا نہیں کرنی چاہئیے۔اگر دنیا کی بادشاہت بھی جاتی ہو اور ہمیں کہا جائے کہ تم اخلاق کو چھوڑ کر اسے بچا سکتے ہو تو ہم سلطنت کی کوئی پروا نہ کریں گے اور اخلاق نہ چھوڑیں گے اس اصل پر قائم رہنے کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں جو دین ملا ہے وہ ہمیں سب چیزوں پر مقدم ہے اور اس کی ہدایت ہے کہ جس ملک میں رہو اس میں قائم شدہ حکومت کے خلاف شورش مت کرو۔لوگ تو کہتے ہیں کہ اس طرح سوراج نہ ملے گا ہم کہتے ہیں سوراج تو الگ رہا اگر ہم سے قرآن کریم کی اتباع کرنے کی وجہ سے سب کچھ بھی چھٹ جائے تو ہم اس کی پروا نہ کریں گے اور ایک ہندوستان کیا اگر ہزار ہندوستان بھی جاتا ہے تو جانے دیں گے۔مگر وہ جو یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم کی اتباع کرنے سے ملک ہاتھ سے جاتا رہتا ہے جھوٹا ہے۔کیا صحابہ کو ملک نہیں ملا تھا۔پھر کیا انہوں نے بغاوتیں کی تھیں۔ہرگز نہیں۔اسی طرح کیا حضرت مسیح کے حواریوں کو ملک نہیں ملا تھا اور کیا انہوں نے بغاوتیں کی تھیں۔خدا نے بادشاہوں کو حضرت مسیح کا پیرو بنا دیا تھا۔اسی طرح ان لوگوں کو جو اسلام کے مٹانے کے لئے اٹھے اسلام کا حلقہ بگوش کر دیا۔ترک کون ہیں۔وہی جو اسلام کے دشمن بن کر اٹھے تھے۔مگر خدا نے خود ان کو مسلمان بنا دیا۔پس ہم صفائی کے ساتھ کہ دینا چاہتے ہیں کہ جس رستہ پر ہم چل رہے ہیں حکومت اسی رستہ پر چل کر ملے گی۔اس وقت جو حاکم ہیں خدا ان کی عقلوں کو کھول دے گا۔اور صداقت اسلام کے قائل بنا دے گا اور ایک دن آئے گا جبکہ یہ لوگ سمجھیں گے کہ انسان کو خدا بنانا بہت بڑی غلطی تھی۔پھر وہ دن آئے گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ ہم نے حقیقی وفاداروں کو چھوڑ کر وسروں کی خاطر انہیں دکھ دئے۔اس وقت وہ خود شرمندہ ہو کر آئیں گے اور ہم سے معافی مانگیں گے اور ہمارے آگے ادب کے زانو نہ کرکے کہیں گے ہم کو اسلام میں داخل کرو کیونکہ اس کی صداقت ہم پر کھل گئی ہے ہماری ان بد سلوکیوں کو معاف کرو جو ہم تم سے کرتے رہے ہیں۔کیونکہ رو