خطبات محمود (جلد 8) — Page 154
154 ہے اور کوئی شخص اس قانون کو چھوڑ کر کامیاب نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی پہلے دن ایم۔اے کی کتابیں لیکر پڑھنا سیکھے تو ساری عمر خرچ کر دینے پر بھی کچھ نہ سیکھ سکے گا۔پہلے ا ب شروع کرے گا پھر الفاظ سیکھے گا پھر فقرے بنائے گا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ ترقی کرتا جائے گا۔اور ٹکڑے ٹکڑے جوڑ کر عمارت تیار کرے گا۔اور ایم۔اے یا مولوی کہلائے گا۔ورنہ اگر وہ کہے کہ اس قانون پر عمل کئے بغیر ایم۔اے بن جاؤں تو ناکام رہے گا۔اسی طرح روحانی حالت میں ہوتا ہے پہلے انسان کو اپنے نفس پر ایسے قانون جاری کرنے پڑتے ا۔ہیں جیسے چھوٹے بچہ پر جاری ہوتے ہیں۔پھر ترقی کرتا ہے اور جوں جوں حالات بدلتے جاتے ہیں اس کے لئے پابندیاں بھی بدلتی جاتی ہیں۔ابتدائی حالت میں اس کا یہ کہنا کہ فلاں کی یہ حالت ہے۔میں بھی کیوں اس کی طرح نہ کروں۔نادانی ہوگی۔دیکھو باپ جب بچہ کو کہے کہ میری اجازت لیکر باہر جایا کرو۔تو کیا بچہ کا یہ کہنا کہ تم کس کی اجازت سے جاتے ہو۔درست ہو سکتا ہے۔بات یہ ہے کہ باپ تو وہ زمانہ گزار چکا ہے جب اجازت لینے کی ضرورت تھی اور اب اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔لیکن بچہ کا اب وہ زمانہ ہے۔اسی طرح قوموں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جب تک ان کی حالت بچپن کی سی ہو۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی اس سے ہدایات لیں جس کے سپرد ان کی نگرانی ہو اور پھر کوئی کام کریں۔جب تک کسی قوم کی روایات قائم نہ ہوں۔اس وقت تک اسے ہدایات کی سخت پابندی کرنی چاہئیے۔جو بچہ اپنے نگران کی ہدایات پر عمل کرنے کی بجائے جوان آدمی کی نقل کرنے لگے گا۔وہ ہلاک ہو گا۔اسی طرح وہ قوم جس کے لئے اس کی روایات نہیں اور مثالیں موجود نہیں وہ اگر کسی جوان قوم کی نقل کرے گی تو تباہ ہوگی۔مگر افسوس کہ بہت لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں اور جانتے نہیں کہ کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی جب تک سخت مجاہدات کر کے جوانی کی عمر تک اسے نہ پہنچائیں۔جب قوم جوانی کی حالت کو پہنچ جائے گی قانون بن جائیں گے روایات قائم ہو جائیں گی، تو پھر اس قدر پابندیوں اور اس قدر نگرانی کی ضرورت نہ رہے گا۔دیکھو اگر دو جوان آدمیوں کو کسی جگہ بٹھا دیں تو وہ آپس میں نہیں لڑیں گے لیکن اگر دو بچے بیٹھے ہوں گے تو جھٹ لڑنا شروع کر دیں گے۔وجہ یہ کہ ان کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی اور وہ نگرانی کے محتاج ہوتے ہیں۔اور جب تربیت میں سے انسان گزر جاتا ہے تو پھر اسے خیال ہی نہیں ہوتا کہ کسی بات کی پابندی کر رہا ہوں کیونکہ وہ عادی ہو جاتا ہے۔مثلاً چھوٹا بچہ جب منڈیر پر جھانکے اور ماں باپ روکیں تو روتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے پر جبر کر رہے ہیں۔مگر جب بڑے جھانکا کرتے ہیں۔کیوں ان کو کوئی روکتا نہیں۔اور حکم نہیں دے رہا ہوتا کہ مت جھکو۔لیکن وہی بچپن کا حکم ان کے پیش نظر ہوتا ہے۔اور اس حکم کی غیر معلوم آواز کے وہ پابند ہوتے ہیں۔