خطبات محمود (جلد 8) — Page 153
153 ہم اس کی پابندی سے آزاد ہوتے ہیں کیونکہ ہم انگریزوں کے ماتحت رہتے ہیں۔اور اگر انگریز کوئی ایسا قانون بناتے ہیں جس کی پابندی ہم نہیں کرنا چاہتے تو اس ملک کو چھوڑ کر عرب افغانستان وغیرہ ممالک میں جا سکتے ہیں۔اسی طرح اور ممالک میں ہو سکتا ہے اور بعض جگہ تو وہ قانون ہی بدل دیا جا سکتا ہے جو ناقابل عمل ہو۔اور یہ اسی جگہ ہو سکتا ہے جہاں رعایا کو آزادی حاصل ہو۔مگر یہ خدا کا قانون ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔اور جب تک اس کے ماتحت اپنی زندگی کو نہیں لاتا۔کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے کامل انسان کی مثال نطفہ سے دی ہے جیسے سورہ مومنون میں بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت سے اس کی تفصیل براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرمائی ہے۔پس قو میں نطفہ کی طرح ہوتی ہیں اور پھر اس سے ترقی کرتی ہیں اور ان کے لئے اسی طرح حالات بدلتے رہتے ہیں جس طرح نطفہ کے لئے۔اس کے بغیر کوئی ترقی نہیں کر سکتیں۔ہماری جماعت کی حالت بھی ایسی ہے کہ یہ ان مدارج میں سے گذر رہی ہے اور بلحاظ اس کے کہ نئی جماعت ہے اور ان حالات میں سے نہیں گزر چکی۔جن میں سے گزرنا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔اس کی حالت بچہ کی سی ہے۔مگر اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ جو ایمان لاتے ہیں۔یا بعض جماعتیں جو ایمان لاتی ہیں، کہتی ہیں جس دن ہم نے بیعت کی اسی دن کامل ہو گئے۔حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ کہا جائے جس دن بچہ نے پیدا ہو کر سانس لیا اسی دن کامل انسان ہو گیا۔لیکن کیا وہ بچہ جو آج پیدا ہو۔وہ اور وہ جو ماں باپ اور استادوں کی تربیت میں کئی سال رہا ہو۔برابر ہو سکتے ہیں۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ مختلف تغیرات میں مختلف حالات ہوتے ہیں اور جب تک کوئی ان حالات میں سے نہ گزرے ترقی نہیں کر سکتا۔دیکھو ایک وقت کہا جاتا ہے کہ اب بچہ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں خود کھاتا کماتا ہے۔مگر ایک وقت وہ ہوتا ہے کہ ماں کو کہا جاتا ہے کسی وقت بچہ کو اکیلا نہ چھوڑے پھر ایک وقت تو اتنا بھی پسند نہیں کیا جاتا کہ ماں بچہ کو چھوڑ کر دوسرے کمرہ میں چلی جائے مگر ایک وقت آتا ہے جب پسند ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ضروری قرار دیتے ہیں کہ لڑکا بیوی کو لے کر الگ رہے۔یہی حالت روحانیت کی ہوتی ہے۔اس میں بھی جب تک انسان مختلف تغیرات میں سے نہ گزرے کامل نہیں ہو سکتا۔دنیاوی علوم کے لحاظ سے خواہ کوئی بی۔اے یا ایم۔اے ہو جائے مگر روحانیت میں اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا۔جب تک روحانیت کے لئے کوشش شروع نہ کرے گا اور اس میں لمبے عرصہ کے بعد کامل ہوگا جس طرح دنیاوی علوم لمبے عرصہ اور محنت کے بعد اور استادوں کی نگرانی میں انسان سیکھتا ہے اسی طرح روحانیت بھی لمبے عرصہ میں محنت کرنے اور روحانی انسانوں کی نگرانی میں رہنے سے حاصل ہو سکتی