خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 143

143 26 احمدی مستورات کا عظیم الشان کارنامہ (فرموده ۲۷ جولائی ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ وچھو بڑے بڑے باد اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت جب چاہتی ہے تو ادنیٰ سے ادنی اور کمزور سے کمزور لوگوں سے بھی وہ کام کرا لیتی ہے جو دنیا کے بڑے زبردست سے زبردست اور طاق طاقتور سے طاقتور لوگوں سے بھی نہیں ہو سکتے۔ دیکھو بادشاہوں نے چاہا کہ دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کریں۔ سکندر اعظم اسی نیت اور اسی ارادہ کو لیکر نکلا تھا مگر اپنے ارادہ کو تکمیل تک پہنچائے بغیر مر گیا۔ اس زمانہ میں بھی بڑی بڑی حکومتیں چاہتی رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کریں مگر ان کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئی ہیں۔ لیکن دیکھو جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کردے تو اس نے ایک نہایت کمزور اور ضعیف انسان سے جس کے پاس نہ کوئی سامان تھا نہ دولت نہ طاقت تھی نہ قوت سب کو جمع کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا تعالیٰ کے حضور جو درجہ حاصل تھا۔ اور آپ کو جو قرب الہی میسر تھا اس کے باعث دنیا کے سارے ہی وجودوں سے آپ بڑے تھے۔ لیکن اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبوت سے پہلے کوئی خصوصیت حاصل نہ تھی۔ آپ کا جو بھی درجہ تھا۔ وہ آپ کو خدا کے حضور حاصل تھا۔ ورنہ اپنے شہر میں نہ آپ کے پاس دولت تھی نہ مال تھا نہ اسباب تھا نہ جتھا تھا نہ طاقت تھی حتی کہ جب آپ نے نکاح کیا تو معمولی گزارہ کے لئے بھی آپ کے پاس مال نہ تھا بلکہ اپنی بیوی جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا اور سب سے پہلے ایمان لانے کا درجہ نصیب ہوا۔ اس نے اپنا سارا مال آپ کے سپرد کر دیا۔ ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود محنت کرکے گزارہ کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت خدیجہ جن سے آپ کی شادی ہوئی۔ آپ کا مال لیکر آپ تجارت کے لئے گئے اور اس کے نفع سے گزارہ کرتے تھے۔ نہ آپ زمیندار تھے۔ اور زمینداری تو مکہ میں ہوتی ہی نہیں۔ نہ آپ کے پاس گھوڑے یا اونٹوں کے گلے تھے۔ بے شک آپ کو لوگ صادق کہتے تھے۔ مگر صادق کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے پاس مال بھی تھا بے شک آپ کو لوگ امین کہتے