خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 137

137۔اور آپ مردوں سے کرتے ہیں۔کہنے لگا کہ میں مردوں سے اس لئے شرم کرتا ہوں کہ زندوں کو تو مجھ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔مگر مردوں کو پہنچا ہے۔یہ سب جو دفن شدہ ہیں میرے ہی علاج کا نتیجہ ہیں۔تو کسی کے اپنے آپ کو طبیب کہنے سے وہ طبیب نہیں ہو جاتا بلکہ ایسا شخص جو طب نہ جانتا ہو اور اپنے آپ کو طبیب کے وہ دھوکہ باز ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم مسلم ہیں اس لئے دوسروں سے افضل ہیں مگر وہ فی الواقعہ مسلم نہیں تو اس سے زیادہ دھوکہ باز کون ہو سکتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کسے میں چونکہ اپنے آپ کو طبیب کہتا ہوں اس لئے مجھ سے علاج کرانا چاہیے یا کوئی کہے میں چونکہ اپنے آپ کو بادشاہ کہتا ہوں اس لئے سب لوگوں کو میری رعایا بن جانا چاہیے۔یا کوئی کہے چونکہ میں کہتا ہوں فلاں جائداد مجھے پسند ہے۔اس لئے مجھے دے دینی چاہیئے۔ایسے شخص کو لوگ پاگل کہیں گے یا عقمند۔اپنے کہنے سے تو کوئی کچھ نہیں بن جاتا۔اسی طرح ہم کہنے سے مسلم نہیں بن سکتے اور اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک مسلم نہیں۔پس ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم غیر مذاہب کے لوگوں سے اس لئے افضل ہیں کہ ہم مسلم ہیں بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم مسلم ہیں تو غیر مسلموں سے افضل ہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مسلم ہیں۔اس سوال کے جواب پر ہماری تمام زندگی کی راحت اور آرام۔کامیابی اور کامرانی کا انحصار ہے۔اگر نفس کہتا ہے۔ہاں تم مسلم ہو۔اگر عقل کہتی ہے ہاں تم مسلم ہو۔اگر تمہارے اعمال کہتے ہیں کہ بے شک تم مسلم ہو۔۔تو ہم سے زیادہ خوش قسمت اور اطمینان کی حالت اور کسی کی نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر نفس کہتا ہے کہ خاموش یہ تذکرہ ہی نہ چھیڑو۔اگر اس سوال پر تمہارے اندر گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔اور تمہارا دل لرزنے لگ جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ تھیٹر کے ایکٹر کو جس طرح بادشاہ بناتے ہیں اور وہ ایک لمحہ کے لئے خوش ہو جاتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ گھر تو کھانے کو بھی کچھ نہیں۔یہ تماشا کر کے کچھ ملے گا تو کھائیں گے۔یہی حالت تمہاری ہے اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو یاد رکھو ہم سے زیادہ بد قسمت دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ دوسرا تو کوشش کر کے پہنچنا چاہتا ہے اور پہنچنے کا صحیح رستہ تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔مگر ہم مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔اور اگر کوشش کریں تو دوسرے کہیں گے تم میں اور ہم میں کوئی فرق نہ رہا۔جیسی تمہاری حالت ہے ویسی ہی ہماری ہے۔تو یہ سوال ہے جس کو حل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن کے دل میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہو تا۔پھر بہت سے لوگ ہیں کہ اگر ان کو پیدا ہوتا ہے تو اس کے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور انہیں پتہ ہی نہیں کہ مسلم کیا ہوتا ہے اگر وہ عمل کرنے کی کوشش کریں تب انہیں پتہ لگے کہ مسلم کیا ہوتا ہے دیکھو اگر کوئی -