خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 131

131 موجب ہوتی ہیں۔تو خدا تعالٰی نادان ماں باپ کی طرح نہیں۔بعض دفعہ بچہ کی انتڑیوں میں درد ہوتا ہے جو سل کی ایک قسم ہے۔وہ بچہ درد میں مٹھائی مانگتا ہے تو نادان ماں باپ اسے مٹھائی دے دیتے ہیں جو سخت مضر ہوتی ہے۔خدا کی نسبت جو عالم الغیب ہے یہ امید رکھنا کہ وہ ہر ایک بات کو مان لیتا ہے یہ بے وقوفی ہے۔کیا خدا ہو شیار اور نادان ماں باپ کی طرح بھی نہیں جو اپنے بچوں کی بعض باتیں نہیں مانتے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ماں باپ بچوں کی بعض باتیں رد کرتے ہیں اور بعض وقت وہ سزا بھی دیتے ہیں لیکن انہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنی اولاد کی کبھی بات نہیں مانتے۔مگر خدا تعالیٰ کی نسبت وہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ ہر بات کیوں نہیں مانتا۔تو خدا جو عالم الغیب ہے وہ کیونکر بندہ کی ہر ایک بات کو مان سکتا ہے؟۔خدا تعالیٰ کو اس بات کی کیا پروا ہے کہ وہ بندہ کی ہر بات کو قبول کرے۔خواہ وہ نقصان دہ ہی ہو۔مگر اس بات کی پر وا وہ ضرور کرتا ہے کہ بندہ کی ایسی بات مان لے جس سے اس کو نقصان پہنچے یا وہ ہلاک ہو جائے۔بعض لوگ اس وجہ سے دعاؤں میں سست ہو جاتے ہیں کہ بعض دعائیں ان کی قبول نہیں ہوئیں۔وہ والدین کی نسبت تو یہ نہیں کہتے کہ وہ بچہ کی سب باتیں منظور کرتے ہیں لیکن خدا کی نسبت وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بندوں کی ہر ایک دعا سنتا اور ہر بات منظور کرتا ہے۔اور اگر خدا ان کی کوئی دعا رد کر دیتا ہے تو کہدیتے ہیں بس جی خدا ہی کوئی نہیں اگر خدا ہوتا تو ہماری دعا ضرور سنتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جوش دعا کے لئے ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔آئندہ دعا کے لئے ان کے اندر جوش نہیں رہتا اور بعض لوگ تو دہر یہ ہی ہو جاتے ہیں۔ایک شخص کے متعلق مجھے ہمیشہ یہ شبہ رہتا تھا کہ کبھی نہ کبھی یہ ٹھوکر کھائے گا کیونکہ اس کا یقین تھا کہ ہر ایک دعا قبول ہوتی ہے۔اس لئے مجھے خطرہ تھا کہ جب بھی اس کی کوئی دعا قبول نہ ہوگی ضرور ٹھوکر کھائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔تو اس گمان سے ایسی ٹھوکریں بہتوں کو لگ جاتی ہیں۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نادان ماں باپ کی طرح نہیں کہ وہ ہر بات کو منظور کرے وہ دانا والدین کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر اور زیادہ حکمت کے ساتھ کام کرتا ہے۔پس اس نکتہ کو یاد رکھو تاکہ تم کو دعاؤں کے معاملہ میں کبھی ٹھوکر نہ لگے۔الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۲۳ء)