خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 12

12 بات کا ثبوت نہیں کہ اس کام کو کرنے کا خدا تعالٰی کا منشاء نہیں بلکہ وہ مقررہ قانون کے ماتحت ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا کہ دنیا مرزا صاحب کو مان لے تو اب تک کیوں نہ سارے لوگ ان کو مان لیتے۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا کہ مرزا صاحب کے ذریعہ عیسائیت تباہ ہو تو اب تک کیوں نہ ہو جاتی۔اگر خدا تعالی کا منشاء ہو تا کہ احمدیت پھیل جائے تو اس وقت تک کیوں نہ پھیل جاتی اگر اس بات کو صحیح مان لیا جائے تو ہم کہتے ہیں اگر خدا تعالیٰ کا منشا ہوتا ہے کہ بچہ پیدا ہو تو کیوں اسی دن پیدا نہیں ہو جاتا۔جس دن میاں بیوی ملتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ گیہوں پیدا ہو تو کیوں اسی دن نہیں پیدا ہو جاتی جس دن زمین میں بیچ ڈالا جاتا ہے اگر خدا تعالی کا منشاء ہوتا ہے کہ آم پیدا ہوں تو کیوں اسی دن آم کا درخت آگ کر اس پر آم نہیں لگ جاتے جس دن گٹھلی زمین میں دبائی جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ کانیں بنیں تو کیوں ایسا نہیں ہو تا کہ ایک دن کو ئلہ کو زمین میں دفن کیا جائے اور دوسرے دن ہیرا بن جائے۔تم سب ان چیزوں کو خدا تعالی کی پیدا کردہ چیزیں مانتے ہو۔مگر کہتے ہو کہ ان کے لئے ایک وقت ایک عرصہ اور ایک زمانہ مقرر ہے۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیا گیہوں خدا پیدا نہیں کرتا۔خدا ہی پیدا کرتا ہے۔مگر کیا اس کو چھ مہینے نہیں لگتے۔اسی طرح کیا نطفہ جو رحم میں جاتا ہے اس سے خدا بچہ پیدا نہیں کرتا۔خدا ہی پیدا کرتا ہے۔مگر اس کو 9 مہینے لگتے ہیں۔پھر کیا۔آم کی گٹھلی سے آم کا درخت خدا نہیں بناتا۔خدا ہی بناتا ہے۔مگر اس کو ایک عرصہ لگتا ہے پس اگر گیہوں کے دانے کو گیہوں بنانے کے لئے چھ ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔اگر آدمی کے نطفہ کو آدمی بنانے میں 9 ماہ لگتے ہیں۔اگر آم کی گٹھلی سے آم بنانے میں ۹۔۱۰ سال لگ جاتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں اگر شیطان کو انسان بنانے میں دس میں چالیس پچاس یا سو پہال لگیں تو کیا حرج ہے۔گیہوں کو گیہوں بنانے آدمی کے نطفہ کو آدمی بنانے اور آم کو آم بنانے کے لئے تو مانتے ہیں کہ اتنا عرصہ لگنا چاہئیے۔مگر شیطان کو فرشتہ بنانے پر کہتے ہیں کہ کیوں عرصہ لگتا ہے۔بات یہ ہے جیسا عظیم الشان تغیر ہو۔اس کے مطابق اس کے لئے عرصہ بھی مقرر ہے۔کانیں لاکھوں سال کے تغیر کے بعد بنتی ہیں۔روحانی دنیا میں پچاس یا سو سال یا اس سے کم و بیش عرصہ میں تغیر آیا کرتا ہے۔اور ہر چیز کے تغیر کا الگ الگ دائرہ جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔اسی عرصہ میں اس میں تغیر ہوتا ہے۔پس کسی تغیر کو وقت اور عرصہ لگنے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس تغیر کے ہونے کے لئے خدا کا منشاء ہی تمھیں بلکہ یہ کہ خدا کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت عرصہ لگ رہا ہے۔اللہ تعالی طاقت رکھتا ہے کہ دنیا میں وہ راستی اور صداقت پھیلائے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں آئی۔خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ تمام دنیا کے کونوں سے کھینچ کھینچ کر لوگوں کو اس راستی کی طرف لائے اور انہیں منوائے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے وقت اور