خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 115

115 ہے۔اور ظاہر قربانیاں بھی کرنی پڑتی ہیں اور ان قربانیوں میں سے بڑی قربانی مال کی ہوتی ہے۔ہمارے زمانہ میں جانی قربانی کا موقع کم آیا ہے۔البتہ سلسلہ ارتداد نے ہماری جماعت کے لئے تعلیم و تربیت کا موقع بہم پہنچا دیا ہے۔یہ شرجو اٹھایا گیا ہے مسلمانوں کے لئے ایک تازیانہ ہے۔مگر ہماری جماعت اس سے مزید قربانی کرنا اور مشقت برداشت کرنا سیکھے گی اور میرا ارادہ ہے کہ اس طرز تبلیغ کے سلسلہ کو دائمی کر دیا جائے ہمارے احباب کا فرض ہے کہ اس موقع پر ہر قسم کی قربانیاں بجالائیں۔ہم اس فتنہ کے بند ہونے سے تبلیغ کو نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ہماری تبلیغ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔اب ہم اور ہمارے بعد سلسلہ کا انتظام جس کے ہاتھ میں ہو وہ تبلیغ کرتا رہے گا اور جب تک کافروں کا وجود دنیا میں ہے۔تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔اب جو قربانیاں ہماری جماعت کرتی ہے اور جن کی عادی ہے وہ مالی قربانیاں ہیں۔اور نسبت کے لحاظ سے وہ اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اتنی قربانیاں نہیں کرتی۔اور بعض احباب کی قربانیاں تو بہت ہی بڑھی ہوئی ہیں اور ایسے بھی مواقع آئے ہیں کہ ہمارے احباب نے دین کی ضرورت پر گھر کی چارپائیاں تک بیچ دی ہیں۔مگر بعض کے بوجھ اٹھا لینے سے سارا کام نہیں چل سکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ مجموعی طور پر تمام جماعت قربانی کرے اور وہ لوگ جوست ہیں یا غافل ہیں۔وقت آگیا ہے کہ سستی اور غفلت چھوڑ دیں۔میں تمام جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ سب مل کر قربانیاں کرو تاکہ جماعت کے چند احباب پر بوجھ نہ ہو بلکہ اس بوجھ کو ساری جماعت اٹھائے۔اب خاص وقت ہے جس میں جماعت کے لئے مالی قربانی کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ جب جماعت کے سینکڑوں آدمی چھٹیاں لے کر اور اپنے کاروبار کو چھوڑ کر جانی قربانی کرتے اور تبلیغ کرنے کے لئے جاتے ہیں تو ان لوگوں کے چندوں پر بھی لازمی طور پر کمی آئے گی۔ادھر اخراجات بڑھ رہے ہیں جن کی سرسری میزان فی الحال ۲۵ ۳۰ ہزار ہے۔ایسے وقت میں اگر جماعت کے سب افراد قربانی نہ کریں گے تو کام کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔اگر کسی شخص میں ضعف ہے۔سستی ہے یا غفلت ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس کو چوکس کریں اور اس کی سستی اور غفلت کو دور کریں۔بیت المال پر ۳۵ ہزار کے قریب اخراجات کا نیا بار آپڑا ہے۔بعض لوگوں کی آمدنیاں کم ہو گئی ہیں۔ایسے وقت میں جماعت کے کسی فرد کا قربانی کرنے سے رکے رہنا جماعت سے دشمنی کرنا ہے۔اگر وہ لوگ جو اب تک ست رہے ہیں اس ضرورت کے وقت سلسلہ کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پہلے قصور کو بھی معاف فرما دے گا۔پس اس موقع کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیئے۔