خطبات محمود (جلد 8) — Page 114
114 21 مالی قربانی کی خاص ضرورت (فرموده ۲۲ جون ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔انسان کے موٹے موٹے دو حصے ہیں۔ایک مادیت اور دوسرا روحانیت۔یہ دونوں حصے اپنے اپنے دائرے میں قربانی کے محتاج ہیں اور جب تک قربانی ضرورت کے مطابق نہ ہو کامیابی نہیں ہو سکتی۔مثلاً انبیاء کی جماعت کے لوگ ہیں۔وہ خدا کے ایسے پسندیدہ ہوتے ہیں کہ صوفیاء کے اقوال کے مطابق ان کی شان میں آتا ہے تو لاک ما خلقت الافلاک اے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو دنیا نہ پیدا کی جاتی۔وہ اللہ سے ایسے قرب کے مقام پر ہوتے ہیں کہ دنیا ان کی خاطر ہوتی ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ نبی کے لئے ایک قوم تباہ ہوتی ہے اور ایک قوم ترقی کرتی ہے۔گویا قوموں کی ترقی اور تباہی ان کے وجود سے وابستہ ہے۔مگر باوجود اتنے قرب کے پھر دیکھتے ہیں کہ دنیا کی حاجات ان کو بھی لگی ہوتی ہیں جہاں اللہ تعالٰی ان کی خاطر بعض قوموں کو تباہ کرتا اور بعض کو ترقیاں دیتا ہے وہاں یہ بھی تو ہوتا ہے کہ ان کو بھوک لگتی ہے۔پیاس لگتی ہے۔سونے کی حاجت ہوتی ہے۔نبی بیمار بھی ہوتے ہیں۔ان کو دوا کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔لباس کی بھی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔غرض انسانی احتیاجات کے باعث نبی اور غیر نبی میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور انبیاء کی روحانیت ان کو مادیت کی احتیاجات سے بچا نہیں سکتی۔پس کوئی روحانیت نہیں جس کے ساتھ مادیت نہ ہو حتی کی عبادت میں بھی ظاہری حرکات کرنی پڑتی ہیں۔روزہ کے ساتھ جسم کو بھی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔نماز میں انسان ہاتھ باندھتا۔قعدے میں بیٹھتا ہے جس طرح روح خدا کے حضور جھکتی ہے جسم بھی جھکتا ہے اور جس طرح روح خدا کے حضور دوزانو ہوتی ہے اسی طرح جسم بھی خدا کے حضور روزانو ہوتا ہے۔اسی طرح زکوۃ اصل میں اخلاق کی درستی کو کہتے ہیں لیکن اس میں مال بھی دیا جاتا ہے۔حج میں روح کا تبتل الی اللہ ہوتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ جسم کو بھی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔غرض حسب عبادتوں میں ظاہر کے ساتھ باطن اور باطن کے ساتھ ظاہر بھی ہوتا ہے پس روحانی سلسلہ میں ظاہر بھی اس کے ساتھ ہوتا