خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 109

109 معدہ کو۔دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد مل رہی تھی۔ابو جہل سے اس بات میں مدد اور نصرت چھینی گئی جس میں اس نے محمد رسول اللہ کی مخالفت کی اور چھینی بھی اس لئے گئی کہ اس نے خود ان روحانی دروازوں کو اپنے اوپر بند کر دیا جو خدا نے کھولے ہوئے تھے۔اگر ایسے لوگ ان دروازوں کو کھول دیں تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی طرف سے بند کئے ہوئے دروازوں کو کھول دیتا ہے۔ہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ صرف اس معاملہ کو دیکھتا ہے جس کے متعلق اس نے سلوک کرنا ہوتا ہے اور وہ سلوک اس معاملہ تک ہی محدود رہتا ہے۔پس چونکہ انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کی صفات کا اپنے اندر جذب کرنا اور اپنے افعال سے ان کا اظہار کرنا ہے۔اس لئے انسان کا فرض ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے انسان سے کسی کام میں مخالفت کرے تو اپنی مخالفت کو اسی کام تک محدود رکھے۔نبیوں اور خدا کے پیاروں نے اور قوم کے افراد نے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا اظہار اپنے افعال سے کیا۔مگر کسی جماعت نے من حیث الجماعت اس صفت الہی کو نہیں دکھایا۔حالانکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہ تھی کہ وہ خدا کی صفات کا اظہار کہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے اظہار میں بہت کمی ہے۔مثلاً ایک امام الصلوۃ ہوتا ہے۔اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ایک حیثیت اس کی امام ہونے کی ہوتی ہے اور ایک حیثیت عام انسان ہونے کی۔دیکھا گیا ہے کہ اگر اس امام سے کسی ذاتی شخصی معاملہ میں ناراضگی ہوئی تو نمازوں میں آنا چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس بات کی پروا نہیں کی جاتی کہ اس ناراضگی کو اس حد تک محدود رکھیں جہاں تک اس کے انسان ہونے کا تعلق ہے۔اور ان کا حق نہیں کہ نمازوں میں آنا چھوڑ دیں۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ابو جہل رسول اللہ کا مقابلہ کرے اور خدا اس کی روٹی بند کر دے۔اگر کوئی انسان خدا کا مظہر بننا چاہتا ہے تو خدا کی صفات کو اپنے اندر داخل کرے اور اپنے افعال سے ان کا اظہار کرے۔اس کا انعام خدا کے انعام کے لئے غیر محدود مگر اس کا غضب اس کی ناراضگی خدا کے غضب اور اس کی ناراضگی کی طرح محدود ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ورحمتی وسعت کل شی ء (الاعراف: ۱۵۷) لیکن غضب کے متعلق یہ نہیں فرمایا اور کل شی ء میں غضب عذاب ناراضگی شدید العقاب ہونا عزیز و انتقام ہونا سب کچھ آجاتا ہے۔ان سب پر خدا کی رحمت حاوی ہے۔پس ہمارا رحم غیر محدود ہونا چاہیئے اور ہمارا غضب اور ناراضگی محدود۔مگر افسوس ہے کہ رحم تو محدود رہتا ہے اور غضب وغیرہ غیر محدود ہو جاتے ہیں۔جس سے ایک دفعہ ناراضگی ہوئی اس کی طرف تمام عیوب منسوب کئے جاتے ہیں۔ایک شخص کو ایک دفعہ جھوٹ بولتا ہوا دیکھ کر اس کی تمام باتوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔لیکن اس کو ایک دفعہ سچ بولتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام باتوں کو سچا نہیں سمجھتے۔ان کا رحم محدود اور ان کا غضب ناراضگی، بدظنی غیر محدود ہوتی ہے۔حالانکہ اللہ