خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 105

105 نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دنیا ان کی طرف کھینچ کر آگئی۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عہد کی پابندی نہ کرتے جو آپ نے خدا سے کیا تھا تو لاکھوں انسان کیسے کھینچ سکتے تھے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں صدق کی طاقت بدرجہ کمال تھی۔اور آپ کے صدق نے لاکھوں کو کھینچ لیا تھا۔غور کرو لوہے کی ایک لٹھ جس قدر بوجھ اٹھا سکتی ہے جھاڑو کے ہزار تنکے اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اسی طرح جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔وہ دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔فرق یہی ہے کہ دوسروں میں اس بات کی کمی ہوتی ہے۔احمد کی جنگ میں نتیجہ کیا ہوا تھا اور کیوں ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچی اور صحابہ کو بھی سخت تکلیف کا سامنا ہوا۔اس لئے کہ انہوں نے آنحضرت کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔اسی کا یہ نتیجہ خراب تھا۔ہماری جماعت بھی ایک عظیم الشان کام کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔یاد رکھو تمہارے منہ کی باتیں اور اخلاص کا اظہار تمہیں کامیاب نہیں کرے گا جب تک ان اصول حقہ کی اور اقرار بیعت کی پابندی نہ کرو۔جس طرح کو تین مفید نہیں ہو سکتی جب تک اسی بخار میں نہ دی جائے جس میں مفید ہو سکتی ہے۔اسی طرح تمہارا اخلاص کا اظہار بے اثر ہو گا اگر تم اخلاص کے پابند نہ ہو گے۔افسوس ہے کہ بہت لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے زندگیاں وقف کرنے کے لئے لوگ آگے بڑھے مگر اب جبکہ محکمہ نے ان کو بلایا تو بعض خاموش ہو گئے۔خط کا جواب ہی نہ دیا اور کچھ نے عذر کیا کہ ہم اس وقت نہیں جا سکتے۔کیا ایسی فوج کے ساتھ کوئی جرنیل میدان میں جا سکتا ہے حالانکہ فوج کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ کوئی عذر نہیں سنا جاتا۔اور اسلام بھی کہتا ہے كانهم بنیان مرصوص اگر میدان سے آنے والوں کی جگہ پر پورے آدمی نہ جائیں تو ہمیں تین مہینہ کام کرنے کا کیا فائدہ ملے گا۔یاد رکھو کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی جب تک فوجی نظام کے ماتحت ہم کام نہ کریں۔پس یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے یہ غلط طریق اختیار کیا ہے۔قربانی کا وقت وہی ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہو اور کچھ چھوڑنا پڑے۔ورنہ قربانی کی کیا ضرورت ہے۔بے فائدہ عذر بنانے سے کہیں قربانی ہوا کرتی ہے؟ ایک شخص نے زندگی وقف کی ہے۔اس کو افسر نے بلایا کہ تمہیں جانا چاہئیے۔اس نے کہا کہ میں تو چار سال سے بیمار ہوں۔اس شخص کا نام نہ پیش کرنا ہزار درجہ بہتر تھا یہ نسبت اس کے کہ اس نے یہ جواب دیا۔ہم نے جب اعلان کیا تھا تو کیا ہم چاہتے تھے کہ جماعت کے بیمار اور اندھے لولے لنگڑے زندگی وقف کر دیں کہ انکو ہم بھیج دیں۔ایسے لوگ جماعت کے دشمن ہیں اور ایسے لوگوں کی موجودگی میں کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔کیا وہ ماں باپ اپنے بچوں کے