خطبات محمود (جلد 8) — Page 97
97 خطبات محمود جلد ۸ خواہش اظہار کو چاہتی ہے۔جب انسان اپنے خیالات عمال اقوال سب کچھ خدا کی رضاء کے لئے قربان کر دے تب وہ حقیقی عبد کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔غرض وہ مقصد جس کے لئے خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ بھی بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتا تو دیگر امور خواہ دینی ہوں یا دنیاوی۔کوئی ترقی ہو دینی یا دنیاوی۔اس کے لئے کیسے قربانی کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔بعض کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ کہاں قربانی ہر ایک قسم کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ایک امیر کا بیٹا امیر ہوتا ہے۔بلا محنت مال و دولت کا وارث ہو جاتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ترقی نہیں۔اگر امیر باپ کا بیٹا اس دولت میں اضافہ کرتا ہے تو اس کو قربانی ضرور کرنی پڑتی ہے اور اگر اضافہ نہیں کرتا تو اس درجہ سے تنزل کرتا ہے۔جس پر اس کا باپ ہوتا ہے پس امراء کے بیٹوں کا اپنے آباء کی دولت پر قابض ہونا اس امر کی دلیل نہیں کہ انہوں نے بغیر قربانی کے ترقی کر لی ہے۔کیونکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ جس حالت میں تھے اس سے انہوں نے ترقی کی ہے یا تنزل۔جب غور کیا جائے گا تو معلوم ہو گا کہ ترقی کی بجائے وہ تنزل کر رہے ہوتے ہیں جو قربانی نہیں کرتے۔غرض مقصد کے لئے قربانی کرنی ضروری ہے کیونکہ مقصد کہتے ہیں آئندہ حاصل ہونے والی چیز کو اور وہ تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب قربانی کی جاوے۔پس کوئی چیز بغیر قربانی کئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ہم بھی ایک غرض کے لئے کھڑے ہوئے ہیں کہ دنیا میں خدا کے نام کو پھیلائیں۔اشاعت اسلام کریں۔ہمارا فرض ہے کہ اس غرض کے پورے کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی کریں ورنہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔بہت سے دوست ہیں جن کے دل میں جوش ہوتا ہے۔وہ کوشش بھی کرتے ہیں لیکن انہوں نے سمجھا نہیں ہوتا کہ کتنا کام ہے۔اس لئے وہ صحیح تدبیر نہیں کر سکتے۔ایسا تو کم کوئی شخص ہو گا کہ وہ احمدی ہو اور اس کے دل میں خدمت دین کا جوش نہ ہو۔اور احمدی جماعت میں کم ہی کوئی شخص ہو گا کہ اس نے کوئی قربانی نہیں کی۔لیکن خالی قربانی کافی نہیں ہو سکتی بلکہ کامیابی اس طرح ہو سکتی ہے کہ قربانی مقصد کے مطابق ہو۔مثلاً ایک شخص پڑھتا ہے وہ ایک گھنٹہ مگر امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے اس کی ایک گھنٹہ کی قربانی کافی نہیں ہو سکتی بھر پڑھتا ہے۔بلکہ پاس ہونے کے لئے ضروری ہے کہ سات آٹھ گھنٹہ پڑھائی پر قربان کرے تب وہ پاس ہو سکتا ہے۔دیکھو ابھی تک غیروں کو اسلام میں لانا تو الگ رہا۔ابھی تک وہ لوگ بھی جماعت میں سب کے سب داخل نہیں ہوئے جو اسلام کے مدعی ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنے کے مدعی ہیں۔قرآن کو ماننے کے مدعی ہیں۔اور مدعی ہیں کہ اسلام کے لئے قربانی کریں۔اب تک ہم