خطبات محمود (جلد 8) — Page 96
96 Λ 18 خابات محمود جلد بشارات کی آمد - قربانیوں کی ضرورت (فرموده یکم جون ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔پہلے تو میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ عصر کے بعد جو درس میں دیا کرتا تھا اور جو رمضان سے کچھ دن پہلے بوجہ میری علالت بند ہو گیا تھا اور رمضان میں چونکہ سارے قرآن کریم کا درس دینا میں نے حافظ روشن علی صاحب کے سپرد کیا ہوا ہے۔اس لئے میرا درس رکا رہا اور رمضان کے بعد بھی رکا رہا۔چونکہ ہفتہ کے دن عورتوں میں درس دیتا ہوں۔گلے میں تکلیف ہونے کے باعث پہلے ہی دن دونوں درس نہیں ہو سکتے۔اس لئے ارادہ ہے کہ اتوار کے دن سے وہ درس شروع کیا جائے۔اس کے بعد میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ تمام قسم کی قربانیاں قربانی چاہتی ہیں۔وہ کامیابی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ اللہ تعالٰی کا مقصد ہے۔مگر اس کے لئے بھی بتایا ہے کہ قربانی کی ضرورت ہے۔وہ کامیابی کیا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بندے کو پیدا کیا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کا بندے سے تعلق کرنا ہے۔لیکن اس کے لئے بھی کتنی فرمانبرداری کی ضرورت ہے۔جب تک انسان ایاک نعبد کے مقام پر نہ پہنچے اهلنا الصراط المستقيم پر نہیں پہنچتا۔کامل عبودیت اور کلی طور پر جھک جانا یہ دو باتیں ہیں جن کے بعد بندہ انعام کا مستحق ہوتا ہے۔ایاک نعبد میں عملا غلام بننے پر دلالت ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص عملاً غلام ہو مگر دل میں خیالات مخالف ہوں۔لوگ آباء و اجداد سے سن سنا کر حج و زکوۃ اور شریعت کی دوسری باتوں کو بجا لاتے ہیں۔مگر جب تک خود ان کو ایمان نہ ہو اور ان کے خیالات پاک نہ ہوں۔ایسا ہو سکتا ہے کہ ظاہر میں عبد ہوں لیکن دل دوسری طرف جھکا ہوا ہو۔تو عبودیت نہیں کہلا سکتی۔عبودیت یہی ہے کہ دل بھی خدا کی طرف جھکا ہوا ہو۔اگر کوئی ہستی نظر آتی ہو تو خدا کی ہستی نظر آتی ہو۔اس کے سوا کوئی خیال نہ ہو۔استعانت الفاظ کو چاہتی ہے کیونکہ