خطبات محمود (جلد 8) — Page 94
94 17 روزے سے انسان کو استقلال سیکھنا چاہئیے (فرموده ۱۸ ر مئی ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔رمضان ختم ہو گیا اور اس کے بعد وہ زمانہ شروع ہوا جس میں لوگوں کو کھانے پینے کی بندش نہیں ہوتی۔میں نے اسی رمضان کے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ رمضان ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے۔کہ انسان بغیر غذا کے اپنی طاقت قائم نہیں رکھ سکتا۔اس سے زائد بات کا چونکہ اس مضمون تعلق نہیں۔اس لئے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اس لئے میں اتنا ہی حصہ لیتا ہوں کہ رمضان سے سبق ملتا ہے کہ کھانا ترک کرنے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ چاہتے ہیں کہ روزے کا ان کے جسم پر اثر نہ ہو۔صبح کو کھانا کھاتے ہیں اور غذا بھی ثقیل کھاتے ہیں۔ایسی جو جلد ہضم نہ ہو اور کمزوری کا بدل ما تحلل ہو تا رہے۔مگر باوجود اس قسم کی غذا اور باوجود اس کے کہ کھانا ترک نہیں کرتے رمضان کے دنوں میں کمزور ہو جاتے ہیں۔کمزوری شروع دن سے بڑھتی ہے اور رمضان کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ کمزوری جسمانی بڑھتی ہی جاتی ہے حتی کہ اگر روزہ رکھنا ترک نہ کیا جائے تو نقصان ہو جائے۔اس لئے شریعت نے حد بندی کی کہ نقصان نہ ہو اور فائدہ ہو جائے۔صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ ہمیشہ روزہ رکھا کریں۔مگر آپ نے فرمایا کہ جنم میں ایک مقام ہے جو ہمیشہ کے روزہ داروں کے لئے ہے۔گویا روز روزہ رکھنے کو سخت ناپسند فرمایا کہ بجائے خدا کا قرب دینے کے تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔شریعت روزوں سے فائدہ کی حد تک پہنچانا چاہتی ہے اور نقصان کی حد شروع ہونے سے پہلے روک دیتی ہے۔یہ ایک سبق ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ جو کام بھی ہو اس کام میں صیام کا نتیجہ کمزوری ہوتا ہے۔جس طرح روزہ رکھنے سے جسم میں کمزوری آتی ہے۔مگر اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ تکلیف برداشت کرنے کی بھی طاقت آتی ہے اور مشقت کی طبیعت عادی ہو جاتی ہے۔بھوک پیاس کو روکنے کے معنے ہیں کہ بھوک پیاس کی عادت ڈالنا۔جب غذا نہیں ملتی تو ضعف ہوتا ہے مگر