خطبات محمود (جلد 8) — Page 80
80 14 انسانیت کا بقاذکر اللہ سے ہے فرموده ۲۷ / اپریل ۱۹۲۳ء) سورۃ فاتحہ اور آیت شریفہ الذین امنوا وتطمئن قلوبهم بذكر الله الا بذكر الله تطمئن القلوب الذين امنوا وعملوا الصلحت طوبى لهم وحسن ماب (الرعد ۲۹) کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ۔انسانی زندگی کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔جس طرح انسان کی ذہانت کئی پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔اسی طرح اس پر فتوی بھی مختلف ہوتے ہیں۔اس لئے کسی چیز پر ایک پہلو کے لحاظ سے فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔جو لوگ کسی چیز پر غور کرتے ہوئے مختلف حالتوں کو مد نظر نہیں رکھتے۔وہ خود ٹھو کر کھاتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب ہوتے ہیں۔ایک نبی کی کئی حیثیتیں ہوتی ہیں۔نبی ہونے کے لحاظ سے وہ لوگوں کی طرف خدا کا پیغامبر ہے۔اس لئے وہ لوگوں کا حاکم اور بادشاہ ہے لیکن وہ کسی ماں باپ کا بیٹا بھی ہے۔اس نسبت سے ان کی اطاعت اور خدمت اس پر فرض ہے۔پھر وہ کسی عورت یا بعض کا خاوند ہوتا ہے۔اس لئے اس کا تعلق محب اور محبوب کا ہوتا ہے۔باوجود نبی ہونے کے اسے بیویوں کے ناز اٹھانے پڑتے ہیں اور ان کی دلجوئی کرنی پڑتی ہے۔پھر وہ کسی اولاد کا باپ ہوتا ہے۔اس لئے اس کو پیار سے اپنے بچوں کو اٹھانا بھی پڑتا ہے۔ان کے کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔اس بارے میں وہ دوسرے لوگوں کی طرح اپنے بچوں کا خادم ہوتا ہے۔پھر وہ اص لوگوں کا دوست ہوتا ہے۔اس تعلق سے اس کو دوستانہ تعلقات نبھانے پڑتے ہیں۔اگر دنیاوی مشکلات ہوں تو اس کو قرض بھی لینا پڑتا ہے اور اس قرض خواہ کے مطالبات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔غرض نبی کی بھی کئی حیثیتیں ہیں۔اگر کوئی ان مختلف حیثیتوں کو مد نظر نہیں رکھے گا۔تو دھوکہ کھائے گا۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ جس کوزے سے حضرت عائشہ صدیقہ پانی پیتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔اگر کوئی شخص اس واقعہ کو دیکھ کر یہ