خطبات محمود (جلد 8) — Page 76
76 آباء نے دس پندرہ پشت کی لگاتار محنت سے حاصل کیا ہوتا ہے۔وہ اس بیماری کے باعث ایسے شخص کے لئے بیکار ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ ظاہری سامانوں کی فراوانی خوشی کا باعث نہیں ہوتی۔دماغ کی پراگندگی دولت کو حقیر کر دیتی ہے۔خیالات کی تکلیف ظاہری تکلیف سے بڑی ہوتی ہے۔بچپن میں میں نے ایک ریڈر میں پڑھا تھا کہ ایک عورت کے بچے کو ایک جانور ایک پہاڑ کی بلند ترین چوٹی پر لے گیا۔جب اس عورت کو معلوم ہوا تو وہ بے اختیار اس جانور کے تعاقب میں گئی اور اس چوٹی پر چڑھ گئی۔بچہ کو حاصل کر لیا لیکن اب چوٹی سے اتر نہیں سکتی تھی۔بمشکل اس کو اتارا گیا۔وہ چوٹی جس پر لوگ عام حالات میں چڑھ نہیں سکتے تھے وہ عورت اس مامتا کی ماری چڑھ گئی۔اس عورت کے دل میں جو اپنے بچے کی محبت تھی اس نے جوا نیخت کی وہ کمزوری پر غالب آگئی اور وہ اس پر چڑھ گئی۔پس معلوم ہوا کہ اصلی اور اعلیٰ درجہ کی چیز جو سب چیزوں میں عمدہ ہے۔وہ خیالات کی صفات ہے۔ظاہری غلامی سے کہیں بڑی اور خوفناک غلامی خیالات کی غلامی ہے۔خیالات سے جو بے اطمینانی ہوتی ہے ان کے باعث بادشاہوں نے اپنی بادشاہیوں کو چھوڑ دیا اور حکومت کی کوئی پروا نہ کی۔بدھ نے بادشاہی اس لئے چھوڑی کہ وہ بادشاہی میں اطمینان قلب نہیں پاتا تھا۔مسلمانوں میں بھی ایسے بادشاہ ہوئے ہیں جنہوں نے حکومتوں کو خیالات کی بے اطمینانی کی خاطر چھوڑ دیا۔احساسات کی صفائی اور خیالات کی درستی کا ذریعہ کلام الہی ہوتا ہے۔انسان کے خیالات پاک نہیں ہو سکتے جب تک خدا کی طرف سے مدد نہ آئے۔جن لوگوں نے محض اپنی کوشش سے پاک ہونا چاہا وہ اندھیرے میں ٹھوکریں ہی کھاتے رہے۔اور آخر جب معلوم ہوا تو یہ کہ وہ بیمار ہیں۔ان لوگون کو خاص باتوں کی دھن ہو جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاک ہو رہے ہیں مگر وہ انجام کار نامراد ہوتے ہیں۔ایسے لوگ ایک دھوکے میں پڑے رہتے ہیں۔ایسے لوگ جو خیالات رائج کرتے ہیں۔وہ نہ ان کے لئے باعث تسلی ہوتے ہیں نہ دوسروں کے لئے بلکہ آزادی کی بجائے انہوں نے اپنے آپ کو اور دوسروں کو قید کر دیا۔ان کے ذریعہ نہ حقیقی راحت ملتی ہے نہ اطمیان مل سکتا ہے۔اطمینان اسی کو ملا ہے جس کو خدا کی آواز آئی اور اس کو راستہ بتایا۔وہی تسلی پانے والے ہیں جنہوں نے ان سے تعلق پیدا کیا۔جن کو خدا کی آواز آئی۔اور ان کے ذریعہ جو صفائی خیالات حاصل ہوتی ہے وہ عام حالات سے بہت ارفع و اعلیٰ اور بالا ہوتی ہے۔پس خیالات کی صفائی اور راحت نبیوں کے ذریعہ ملی اور آئندہ ملے گی جو لوگ نبوت کا دروازہ بند کرتے ہیں وہ دنیا کو موت کا پیغام پہنچاتے ہیں۔وہ حقیقی راحت حاصل نہیں کرتے۔وہ دنیا کو خوشخبری نہیں پہنچاتے۔وہ یہ کہہ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے نبوت بند ہو گئی۔