خطبات محمود (جلد 8) — Page 60
60 جب ہم اپنا فرض پورا کریں گے تو خدا کے فرشتے ہمیں بشارت دیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں تمہارے ساتھ رہیں گے۔تمہیں خیر اس دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت میں بھی۔اور اس خیر میں ولكم ما تشتهى انفسكم جو تم چاہو گے وہی ملے گا۔وہاں مانگنے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ مانگنے سے پہلے وہ چیزیں موجود ہونگی۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خواہشیں ہونگی وہ پوری کی جائیں گی۔پھر نئے سامان کئے جائیں گے اور اچھے انعام دیئے جائیں گے۔فرمایا۔نزلا من غفور رحیم یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے بطور مہمانی سامان ہونگے۔ایک تو مومن کے اچھے کام فضل کو جذب کریں گے۔دوسری صفت مغفرت کے ماتحت کہ جو کمی رہی اس کو وہ پورا کرے گا اور کوشش کے بعد جو کمزوری رہے اس سے چشم پوشی فرمائے گا۔پس انسان کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ استقامت دکھائے۔اگر صدمہ سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو استقامت کو نہ چھوڑے۔ضرورت ہے کہ ہر ایک انسان اپنے نفس کے علاوہ اپنی نسل کی فکر کرے اگر نسل کی فکر نہیں کی جاتی تو خوف و حزین سے بچاؤ نہیں۔خوف و حزن سے بچنے کا طریق یہ ہے کہ ہر ایک نسل اپنی آئندہ نسل کو حق کی تعلیم دے اور حق پر قائم رکھنے کی کوشش کرے۔یاد رکھو! جب تک تم اس فرض کو ادا کرو گے محفوظ رہو گے اور جب تمہاری کسی نسل نے چھوڑ دیا تو پھر وہ ہلاک ہونگے۔اللہ تعالیٰ پہلوں کی ہلاکت سے ہمیں سبق دے اور ہم وہ راہ اختیار نہ کریں جو ہلاکت کی راہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہم پر ہلاکت کے دروازے بند کردے اور اپنے فضل و رحم کے دروازے کھول دے۔الفضل ۲۳ / ایریل ۱۹۲۳ء) ا زید بن وشنه ۲ اسد الغابه جلد ۲ ص ۲۳۰ حالات زید بن وثنه