خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 57

57 لیکن ایک شخص جو اننا مقرب نہ ہو۔اس سے گو باتیں نہیں کرتا مگر وہ رہتا بادشاہ کی نظر میں ہے اور بادشاہ کی مہربانیوں سے حصہ لیتا ہے۔پس گو اللہ کے پیارے بندوں میں درباری کی حیثیت رکھتے ہوں مگر خوف و حزن سے ان کی حفاظت ضرور ہونی چاہئیے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت نہیں ہے۔آج جتنی آلام اور تکالیف مسلمانوں پر ہیں۔اوروں پر نہیں۔دولت ان کے پاس نہیں۔اخلاقی طور پر ان کی وہ بری حالت ہے کہ شرم آتی ہے۔پھر کونسی بات ہے جس سے سمجھا جائے کہ ان پر خوف و حزن نہیں۔فرشتوں کا نازل ہو کر بشارت دینا تو بڑا مقام ہے۔ان کو ادنیٰ مقام بھی حاصل نہیں۔حتی کہ وہ بھی نہیں جو کفار کو حاصل ہے۔کفار محفوظ ہیں مگر یہ نہیں۔یہ حالت کیوں ہے۔یہی کہ نہ یہ حقیقی معنوں میں ربنا اللہ کہتے ہیں نہ ان میں استقامت ہے۔ان ذمہ داریوں کو بھلا بیٹھے جو ان پر عائد ہوئی تھیں۔اس کا نتیجہ تنزل اور انحطاط ہے یہ فتنہ ارتداد اور قوموں میں بھی ہو گا۔کئی جگہ تحریک ہے۔گو ظاہر نہ ہو۔کوششیں جاری ہیں کہ مسلمانوں کو مرتد کیا جائے۔ایک زمانہ میں مسلمانوں پر لالچ اور خوف کا اثر نہ ہوتا تھا اور ان کے پاس حق تھا۔۔حق پر کوئی دلیل نہ چلتی تھی۔یہ دوسروں کو حق کے زور سے کھینچ لیتے تھے۔مگر آج ہر ایک چیز مسلمان کہلانے والوں کے دل کو ڈگما دیتی ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ ان میں استقامت نہیں رہی۔لالچ اور خوف نے اپنا اثر ڈال دیا ہے۔صحابہ کے زمانہ میں ربنا اللہ کہتے تھے اور استقامت دکھاتے تھے۔ان کی یہ حالت تھی کہ کوئی چیز ان کو ان کے مقام سے نہیں ہٹا سکتی تھی۔ایک صحابی کو کفار نے پکڑ لیا اور تجویز کی کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔سب تیاریاں ہو گئیں۔اس وقت ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم پسند کرو گے کہ تم آزاد ہو جاؤ اور تمہاری بجائے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو پکڑ کر اس طرح قتل کر دیا جائے اور تم اپنے گھر میں آزادی اور آرام سے بیٹھو۔اس وقت اس صحابی نے جواب دیا تم نے جو بات کی ہے وہ تو بہت بڑی ہے۔میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ محمد رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے۔۲۔ایک شخص جو قتل کیا جانے کے لئے تیار ہے اور اس کو امید دلائی جاتی ہے کہ تم آزاد کر دئے جا سکتے ہو۔وہ اتنا بھی سنتا گوارا نہیں کرتا کہ وہ آرام سے بیٹھے اور محمد رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے۔یہ استقامت کی بات تھی اور پھر دلائل کی یہ حالت تھی کہ ابھی قسطنطنیہ فتح نہیں ہوا تھا۔ایک عیسائی بادشاہ نے ایک مسلمان بادشاہ کو لکھا کہ ایک عالم کو بھیج دیجئے۔ہم تحقیقات مذہب کرنا چاہتے قسطنطنیہ میں پادری لوگ جمع ہو گئے۔انہوں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب کو آتے ہی شرمندہ ہیں۔