خطبات محمود (جلد 8) — Page 546
546 نے قبل از وقت اطلاع دنی۔پس یہ خبریں جو قبل از وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو دی جاتی ہیں۔ایک مومن کے لئے کس قدر ازدیاد ایمان اور یقین کا موجب ہوتی ہیں اور یہ وہ برکتیں ہیں۔جو اللہ تعالی کے نبیوں کے ذریعے ہی مل سکتی ہیں۔پس وہ خدا جو رنج اور مصیبت کے آنے سے پہلے اس کے متعلق ہمیں خبر دے کر ساتھ ہی ہماری تسلی بھی کر دیتا ہے۔اس پر ہم کتنی بڑی بڑی امیدیں رکھ سکتے ہیں۔ایسے خدا پر ہم جتنی بھی امیدیں رکھیں وہ تھوڑی ہیں جیسا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ ان امور کے بعد بعض بڑی بڑی برکات کا نزول ہونے والا ہے۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ کس رنگ میں ان کا نزول ہو گا۔اور آیا میرے یا میرے خاندان پر ان کا نزول ہو گا یا وہ برکات جماعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مجھے اس کے متعلق تفصیلی اطلاع نہیں دی گئی۔مگر یہ ضرور ہے کہ ان مصائب کے بعد انعامات بھی ہونے والے ہیں۔جیسا کہ مثنوی مولوی رومی کا ایک شعر ہے۔ہر بلا کیس قوم را حق داده است زیر او گنج کرم بنهاده است اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ غموں کے نیچے انعامات کا سلسلہ بھی رکھ دیتا ہے۔پس یہ حادثات اور مصائب ہمارے لئے کسی مایوسی کا موجب نہیں ہو سکتے۔رنج اور غم ہوتے ہیں۔اور ان کا ہونا ضروری ہے۔کیونکہ جس دن کسی کا دل غم سے خالی ہو گیا اس دن ایمان سے بھی اس کا دل خالی ہو جائے گا۔اس لئے خالی خوشی مومن کو اس دنیا میں نہیں دی جاتی۔دنیا نہ خالص اطمینان کی جگہ ہے نہ خالص غم کی۔مومن کی خوشی غمی سے لیٹی ہوئی ، ن ہے۔ہاں مومن پر اس دنیا میں کوئی ایسا غم اور کوئی ایسی مصیبت ہر گز نہیں آسکتی۔جو اس کو کر دے۔جب اس کے لئے کوئی مصیبت مقدر کی جاتی ہے۔تو پھر یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے انعامات بھی اس کے لئے مقدر کئے جاتے ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور اس کے احسانوں پر دلالت کرتے ہیں اور اس کی رحمتوں کے دروازے اس پر کھولے جاتے ہیں۔میرے نزدیک یہ ایک بڑی بھاری نعمت ہے۔جو انبیاء کے تعلق سے اس دنیا میں مومن کو ملتی ہے۔جس کی وجہ سے مومن کو کمر توڑ دینے والا اور مایوس کر دینے والا کوئی صدمہ نہیں ہو سکتا۔مومن پر مصیبتیں آتی ہیں۔اور۔اس کا دل غم کو محسوس کرتا ہے (کیونکہ مومن کا دل ایک کافر کی نسبت بہت زیادہ حساس ہوتا ہے اور مومن عارف ہوتا ہے اور کافر عارف نہیں ہوتا) مگر وہ اس کی کمر توڑنے اور اس کو تباہ کرنے والا