خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 545

545 محیای و مماتي لله رب العالمین (الانعام (۱۲۳) که میری زندگی اور موت تو سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔یعنی ان باتوں کی کچھ پرواہ نہ کرو۔تمہاری زندگی بھی خدا کے لئے ہے اور اگر اس کے لئے موت بھی آئے تو اس کو بھی برداشت کرو۔اور جو کام خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش آیا ہے۔اس کو پورا کرو تب میں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو معلوم کر کے اس سفر کو اختیار کیا۔اور پھر راستہ میں بھی متواتر میں نے ایسی خوابیں دیکھیں۔میر صاحب کو تندرست دیکھا۔جس کے معنے موت کے ہیں۔کیونکہ بڑہاپے سے تندرستی بعد الموت ہی حاصل ہو سکتی ہے۔پھر جب واپس آیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ میری ایک بائیں ڈاڑھ مل گئی ہے۔اور تعبیر میں ڈاڑھ سے مراد عورت ہوتی ہے۔پھر جہاز میں جاگتے ہوئے ایک عورت کی زور زور کے ساتھ چیخوں کی آواز سنی اور وہ تاریخ وہی تھی جس میں میری دوسری بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا میں نے جہاز کے سوراخوں سے دیکھا کہ کیا کوئی جہاز آ رہا ہے جس سے یہ آواز آئی۔یا کوئی خشکی قریب ہے۔لیکن سمندر میں بالکل خموشی تھی۔اور سینکڑوں میل تک اس تاریخ کو کوئی جہاز نہ تھا۔اور خشکی بھی ایک طرف تو سینکڑوں میل اور دوسری طرف ہزاروں میل دور تھی۔تب میں نے سمجھا کہ کوئی حادثہ ہوا ہے یا ہونے والا ہے۔میں نے حافظ روشن علی صاحب سے بھی اس واقعہ کا ذکر کیا کہ اس طرح تین چار دفعہ میں نے چیخوں کی آواز سنی ہے اور یہ بھی حافظ صاحب سے میں نے کہہ دیا تھا کہ آواز عورت کی تھی۔غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے تمام حالات اور واقعات کے متعلق قبل از وقت اطلاع ملتی رہی۔چنانچہ وہ دونوں مکانوں کے گرنے اور پھر فورا" تیار ہونے کی رؤیا جس میں میں نے دیکھا کہ ایک مکان کی تیاری آدمیوں کے ذریعہ ہو رہی ہے اور دوسرا بغیر آدمیوں کے تیار ہو گیا ہے ایک مکان سے میری بیوی کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔اور دوسرے سے جس میں آدمی کام کر رہے تھے۔میرے بچے کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔کیونکہ عورتوں کا قائم مقام انسان نہیں بن سکتا لیکن بچوں کا قائم مقام انسان بن جاتا ہے۔جیسا کہ میری پہلی بیوی جو ہیں ان کے بچے کی وفات سے چند روز پہلے بھی میں نے ایک رویا دیکھی۔جو ہمشیرہ اور والدہ صاحبہ کو بھی میں نے سنا دی تھی اور بتلایا تھا کہ کوئی پھر غم پیش آنے والا ہے میں نے دیکھا کہ چوہدری علی محمد ہولیں بھون رہا ہے۔اور چنے خواب میں غم پر دلالت کرتے ہیں۔چنانچہ کل جب وہ بچہ فوت ہوا۔تو کسی نے مجھے آکر کہا کہ باہر کوئی آدمی کھڑا ہے۔میں نے پوچھا کہ کون ہے۔تو معلوم ہوا چوہدری علی محمد ہے۔میں نے کہا وہ خواب پوری ہو گئی۔غرض ایک ایک واقعہ کی خدا تعالیٰ