خطبات محمود (جلد 8) — Page 513
513 کوئی ایسی پیدائش تو نظر نہیں آتی کہ انسان ۱۸ یا ۲۰ سال کی عمر میں پیدا ہو۔جب کہ عقل اور شعور کی قوتیں نشو نما پا رہی ہوں اور اس میں فکر و عقل پیدا ہو چکی ہو۔مگر وہ ان قیود سے آزاد ہو۔جو ارد گرد کے حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔کیونکہ انسان پیدا تو آزاد ہوتا ہے۔اور جب رائے کا وقت آتا ہے۔اس وقت تک غلام ہو چکا ہوتا ہے۔بظاہر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے گھر میں ہو، جہاں نیک اور متقی لوگ ہوں اور ان کے خیالات کا اثر اور ان کے اعمال و افعال کی تحریکیں اس پر ہوتی رہی ہوں اور وہ ان اثرات کے ماتحت نیک بھی ہو۔لیکن میں پھر بھی اس کو آزاد نہیں کہتا۔کیونکہ وہ نتیجہ انہیں گردو پیش کے حالات کا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص غلام ہو کر بھی اعلیٰ رائے رکھتا ہو۔اور یہ اسی حد تک ہو گا۔مگر غلامی کی قید سے آزاد نہیں۔اور اس کو حریت نصیب نہیں آزاد رائے تب ہی ہو گی۔جب خود محقیق کر کے صحیح نتیجہ پر پہنچا ہو اس کے لئے ہم دیکھتے ہیں کہ شریعت اسلامی نے ایک نکتہ بتایا ہے که آزادی رائے کس طرح پیدا ہوتی ہے اور یہ راز سورہ فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے۔اگر غور کیا جاوے کہ دنیا کی ساری غلامیاں کس طرح پیدا ہوئی ہیں تو اس کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے ذاتی فوائد اور خود غرضی کا نتیجہ غلامی ہوتا ہے۔وہ اپنے مطلب کے مطابق دوسرے لوگوں کو ڈھالتا ہے۔اور ہر ایک یہی کوشش کرتا ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کا اتباع یا ایسے لوگوں کا اثر غلامی کی تعریف پیدا کرتا ہے۔پس آزادی اور حریت کا کوئی ذریعہ ہے تو ایک ہی ہے کہ دنیا یا کم از کم خدا پرست لوگوں کے دلوں میں یہ بات پیدا کی جائے کہ جب تک تحقیق کا موقعہ نہ ملا ہو۔اپنے خیالات کو اپنے خیالات نہ سمجھنے اور اپنے معاملات کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرے۔کیونکہ خدا تعالٰی ہم سے کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا۔سب چیزیں اسی کی محتاج ہیں۔اور اس کو کسی کی غلامی کی ضرورت نہیں۔اس لئے سورہ فاتحہ میں فرمایا۔الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحیم مالک یوم الدین پس جب انسان اپنے خیالات کو خدا کے سپرد کر کے تحقیق کا ایک دروازہ کھولتا ہے۔تو اس کی غلامی کی زنجیریں ٹوٹنی شروع ہو جاتی ہیں۔اور اس میں حقیقی عبودیت کا مفہوم پیدا ہونے لگتا ہے۔اور وہ بچے معنوں میں عبد اللہ کہلاتا ہے۔اگرچہ عبد اللہ کے معنے ہیں اللہ کا غلام۔مگر اس غلامی کی وہ حقیقت نہیں۔جو انسانی غلامی کی ہے۔اس لئے کہ انسان دوسرے کو غلام بناتا ہے۔اپنے فوائد اور اغراض کے لئے۔اور اللہ تعالی کی غلامی اس کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے صحیح معنوں میں حریت