خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 500

500 76 سفر یورپ میں کامیابی اور تکالیف فرموده ۲۶ ستمبر ۱۹۲۴ء بمقام لنڈن) مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا ہمارے سفر کی جو غرض تھی اور جس مقصد کے لئے یہ سفر اختیار کیا تھا اس اصل غرض کا ایک حصہ خدا کے فضل سے ہو گیا۔اور جو ضمنی اغراض تھیں۔ان کا وقت بھی ہو چکا۔اور کانفرنس میں ہمارا مضمون ہو چکا۔مجھے جیسا کہ بعض خوابوں کے ذریعہ معلوم ہوا تھا یورپ میں اسلام کی ترقی میرے آنے کے ساتھ وابستہ تھی۔مجھے رڈیا میں دکھایا گیا تھا کہ میں انگلستان کے ساحل پر اتر رہا ہوں۔اور میرا نام ولیم دی کانگر (فاتح) ولیم ہے اور بھی بعض خواہیں ہیں جن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔حضرت صاحب نے جب ٹیچنگ آف اسلام لکھی تھی۔اور وہ مضمون وہرم مہوتسو میں پڑہا گیا۔اور سب نے اس مضمون کی فضیلت کا اقرار کیا۔تو وہ پیشگوئی جو اس کے متعلق تھی پوری ہو گئی۔مگر وہ اس وقت ایک وسیع اثر نہ رکھتی تھی گو جلسہ کی کامیابی بڑی چیز تھی۔لیکن اب اس کتاب کی قبولیت اور اس کے اثر کی دعوت کو جب دیکھتے ہیں۔تو وہ کامیابی کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتی۔پہلا اثر اور احساس اس کا جماعت پر یہ ہوا کہ وہ ایمان اور یقین میں ترقی کر گئی اور اس میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اسلام دلائل اور براہین سے دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔اور اس کی دائمی تاثیرات ایسی ہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کو جیت جاتے ہیں۔یہ احساس اصل فتح تھی۔جب اس مضمون کے سننے کے بعد ایک آدمی کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جائے تو سمجھو کہ ایک شخص نبی کا قائم مقام پیدا ہو گیا۔جس کو یہ یقین کامل ہے کہ ہم جیتیں گے۔اگر دس کے دل میں ہو تو دس اور سو کے دل میں ہو تو سو جس جس قدر ایسے لوگوں کی جماعت