خطبات محمود (جلد 8) — Page 494
494 لباس چھوڑ دیتے ہیں؟ جیٹھ ہاڑ کی گرمیوں میں میں نے ان کو ایسے ہی کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے گرمی ستاتی ہے مگر اس کو نہیں چھوڑتے بلکہ اس کا نتیجہ ہوتا ہے جو بعض اوقات بدحواس ہو کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔اور سٹیشنوں پر دیوانہ وار لڑنے لگتے ہیں۔تھوڑے دن ہوئے مجھ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ڈاڑھی اور اسلام کا کیا تعلق ہے میں نے جب کہا کہ کچھ نہیں تو بہت خوش ہوا۔مگر میں نے اس کو کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بڑا تعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے اسوہ جینہ ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈاڑھی تھی۔یہاں کی عورتیں جب مردوں سے کہہ دیتی ہیں کہ لباس کا یہ فیشن ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ اتنے پونڈ لے کر بنا لو مگر۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حکم دیتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہ مائیں۔اگر ڈاڑھی رکھنے میں تکلیف بھی ہو تو کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تم اتنی بھی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے یہ سب باتیں ہیں۔اور دراصل بات وہی ہے کہ تمہارے اندر ایک ہو بزدلی ہے۔ایک غلامی کی روح ہے۔جو تم کو ان کے قومی کریکٹر کے آگے جھکا دیتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی رکھنے کے راز کو بتا دیا تھا۔اور وہ قومی کریکٹرہی تھا۔آپ نے فرمایا کہ ایرانی ڈاڑھی منڈواتے ہیں۔تم ڈاڑھیاں رکھو۔۲۰ کہ تم میں اور ان میں ایک امتیاز نظر آ جاوے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس امر کا بڑا خیال تھا کہ میری جماعت ممتاز نظر آئے۔ایک دفعہ قریباً چھ ماہ تک اس سوال پر بحث رہی کہ ایک خاص قسم کا لباس یا پگڑیاں ہوں یہ کس لئے صرف اس ایک امر کے لئے کہ ہمارا بھی کوئی قومی کریکٹر ہو اب ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ کیا دین ہے؟ دین تو نہیں مگر کیا کوئی مغزیدوں چھلکے کے رہ سکتا ہے۔کوئی مذہب قوم کے بغیر نہیں رہ سکتا۔اور کوئی قوم قومی کریکٹر کے بغیر نہیں رہ سکتی یہی ایک چیز ہے۔جس کے ذریعہ وہ دوسروں سے ممتاز ہوتی ہے اور یہی چیز ہے جو اسے محفوظ رکھتی ہے۔یہ ایک ایسا بورڈ ہے جو اس کی قومی حیثیت اور امتیاز کی حفاظت کرتا ہے۔پس جب تک ہم اپنے قومی کریکٹر کا لحاظ نہیں رکھیں گے۔زندہ رہنے کے قابل نہیں۔یاد رکھو یہ غلامی کی روح ہے۔جو دوسروں سے ڈر کر قومی کریکٹر کو چھڑوا دیتی ہے۔تو اب سوال ہو سکتا ہے کہ کیا کوئی بات بھی ان کی نہیں لینی چاہیئے۔مگر بعض باتیں انسان