خطبات محمود (جلد 8) — Page 422
422 وہ سارے صیغوں کا خیال رکھے۔اور ہم نے تو یہاں تک کیا ہے کہ قیموں کی خبر گیری کے لئے ہم نصف روپیہ خرچ کرتے ہیں۔اور باقی نصف چندے کا اور صیغوں میں خرچ ہوتا ہے۔پس قیموں کی خبر گیری کا ہم نے سب سے زیادہ اہتمام کیا ہے۔اگر چہ وہ اہتمام ظاہر نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر ہمارے ہاں اس طرح یتیم خانے نہیں بنے ہوئے۔جس طرح اور انجمنوں نے بنائے ہوئے ہیں اور ان پر بورڈ لگے ہوتے ہیں۔ہم نے یہ اس لئے نہیں کیا کہ ہم شہرت نہیں چاہتے۔ہم فی سبیل اللہ ان کی تربیت کرتے ہیں اور ان کی تربیت کے لئے ۵۶ ہزار روپیہ خرچ کرتے ہیں اگر آج اس رقم کو ان پر خرچ کرنا بند کر دیا جائے۔تو سب کو پتہ لگ جائے کہ یہاں کتنے یتیم ہیں۔اور اگر آج بیواؤں کی مدد اور ان کے وظائف بند کر دیئے جائیں۔تو تین چار سو آدمی قادیان میں بھوکے پھرتے نظر آئیں۔اور پتہ لگ جائے کہ کتنی بیوائیں اور یتیم بچے قادیان میں رہتے ہیں۔پس ہم یتیموں اور بیواؤں کا خیال سب سے زیادہ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے صیغوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔اور یہی صورت کامیابی کی ہے ورنہ اگر سب صیغوں پر نظر رکھنی چھوڑ دی جائے تو فوراً سلسلہ میں تباہی آجائے۔اور جب کبھی تم اس نکتہ کو چھوڑو گے یقیناً وہ وقت تمہاری تباہی کا پہلا قدم ہو گا اور اسی وقت سے تمہاری تباہی شروع ہو جائے گی۔پس تم سلسلہ کے قیام کے لئے سب صیغوں کا خیال رکھو۔اور ان کی ضرورتوں کے مطابق ان پر خرچ کرو۔(الفضل ۱۳ جون ۱۹۲۴ء) ا بخاری و مسلم بروایت مشکوة کتاب الاداب باب السلام ۲۰ مشکوة کتاب الاداب باب السلام ۳۰ مسند احمد جزو ۴ ص ۴۱۴ ۴۰ بنی اسرائیل : ۳