خطبات محمود (جلد 8) — Page 419
419 نسبت فیصلہ نہیں ہوا۔جماعت کا مشورہ لیا گیا ہے اور احباب سے کہا گیا ہے کہ وہ استخارہ کر کے بتائیں کہ یہ وقت ولایت جانے کے لئے مناسب ہے یا نہیں۔پس جماعت کے مشوروں اور استخاروں کے بعد اس امر کا فیصلہ ہو گا کہ جانے کے لئے یہ وقت مناسب ہے یا نہیں۔لیکن فی الحال میں اس غلط خیال کی تردید کرنا چاہتا ہوں جو اخراجات کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔کیونکہ ممکن ہے۔یہ خیال کسی اور کے دل میں بھی پیدا ہو اور دوسرے لوگ بھی اس دھوکے میں پڑیں۔اسلام کے تمام رکن معین اور مقرر ہیں اور ان کی حد بندی ہے۔زکوۃ کو لو تو اس کی حد بندی ہے کہ چالیس روپے ہوں۔اور ان پر سال گذر جائے تو ایک روپیہ دو۔یہ نہیں کہا کہ سب مال دے دو۔پھر روزے ہیں۔ان کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ ہمیشہ ہی روزے رکھا کرو۔بلکہ خاص رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔برخلاف اس کے وہ شخص جو شریعت کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔اور تمام سال روزے رکھتا ہے۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے ٹھرنے کی جگہ دوزخ کا سب سے نچلا درجہ ۳؎ ہے۔تو دیکھو۔آپ نے اس شخص کے لئے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو۔کیسی سزا مقرر کی ہے۔پھر جس طرح زکوۃ اور روزوں کی حد بندی ہے۔اسی طرح حج کے متعلق ہے کہ تمام عمر میں ایک دفعہ کرنا فرض ہے۔یہ نہیں کہا کہ ہر سال کیا کرو۔اور پھر اس کے کرنے کے متعلق شرائط مقرر کر دی ہیں۔جن میں وہ پائی جائیں۔وہ حج کریں۔اور جن میں نہ پائی جائیں۔وہ نہ کریں۔اسی طرح نماز کو لو۔نماز بھی پانچ وقت کی مقرر کی ہے۔یہ نہیں کیا کہ تمام دن نماز ہی پڑھتے رہا کرو۔پھر بعض اوقات میں نماز نہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔مثلاً سورج کے طلوع ہونے کے وقت یا غروب ہونے کے وقت یا دو پہر کے وقت۔اس طرح صدقہ و خیرات کی بھی حد بندی ہے۔خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ نہ تو تو اپنے ہاتھوں کو بالکل کھولدے۔اور نہ ان کو بالکل بند رکھ بلکہ درمیانہ چال چل ہے۔پس شریعت نے تمام ارکان کی حد بندی کی ہے۔اور ہر ایک کی کچھ نہ کچھ حد مقرر کر دی ہے۔تاکہ انسان اس حد سے آگے بڑھ کر نقصان نہ اٹھائے پس شریعت نے ان رکنوں میں مال خرچ کرنے کی حد بندی کر دی ہے۔جن میں مال خرچ کیا جاتا ہے۔اور تمام مال کے خرچ کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان رکنوں میں وقت خرچ کرنے کی حد بندی کر دی ہے۔جن میں وقت کی قربانی کی جاتی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تمام دن خدا تعالیٰ کی عبادت ہی کرتے رہو۔اور کچھ نہ کرو بلکہ شریعت نے اپنے نفس کا بھی حق مقرر کیا ہے۔بیوی کا حق بھی رکھا ہے اور دوسرے حقوق بھی قرار دیئے ہیں۔اپنے نفس کے حق کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی