خطبات محمود (جلد 8) — Page 413
413 لیں گے۔بہ نسبت اس شخص کے دعوئی کے کہ اس کے دعوئی کے برخلاف کوئی کھڑا ہو اور وہ اس کے دعوے کو توڑ دے۔۔یا ہمیں اس کے دعوے کو بطلان کے متعلق کافی دلائل مل گئے ہوں یا دلائل تو نہ ملے ہوں لیکن خود ہی اس نے اپنے دعوی کو چھوڑ دیا ہو اس صورت میں ہم اس شخص کے دعوئی کو قبول نہیں کریں گے چونکہ یہ صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے آپ کے ساتھ بعض مبایعین کی نسبت زیادہ محبت ہے۔جب تک ان کے اس دعوئی کے برخلاف ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہ ہو۔جو اس دعوی کو توڑ دے یا اس دعوے کی تردید کر دے۔تب تک ہم اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں۔اور ان کے مشورے دینے کو ایک مخلصانہ فعل قرار دیتے ہیں۔گو وہ سلوک جو غیر مبایعین نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔وہ ایسا برا سلوک ہے کہ ایسا ہم سے ہندوؤں نے سکھوں اور عیسائیوں نے اور دیگر مذاہب والوں نے بھی نہیں کیا۔اور وہ فحش کلامی اور وہ ایذا رسانی جو ان لوگوں کی طرف سے ہمارے متعلق برتی گئی ہے۔اس کی مثال دوسری قوموں میں نہیں ملتی۔ان کی اس ایذا رسانی کے ہوتے ہوئے ان کے متعلق یہ خیال کر لیتا کہ کوئی شخص ان میں ایسا بھی ہے۔عجیب بات ہے۔لیکن چونکہ خط لکھنے والے صاحب اس بات کے مقر ہیں کہ ان کا تعلق ہمارے ساتھ بعض مبایع کی نسبت بھی زیادہ ہے اور پھر ان کے اس کہنے کے برخلاف ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل بھی نہیں۔جو اس دعوئی کو توڑ دے۔اس لئے میں ان کے اخلاص کو تسلیم کرتا ہوں۔اور سمجھتا ہوں کہ ان کا مشورہ ایک مخلصانہ مشورہ ہے۔لیکن چونکہ میں نے ولایت جانے کے متعلق ابھی تک رائے قائم نہیں کی۔اور چالیس آدمیوں کو استخارہ کے لئے کہا ہے کہ وہ استخارہ کر کے بتائیں کہ یہ وقت ولایت جانے کے لئے مناسب ہے یا نہیں اور خود بھی استخارہ کر رہا ہوں۔اور خیال ہے کہ جب تمام جماعت کی رائیں آجائیں۔اور استخارے بھی ہو جائیں تب ولایت جانے کے متعلق فیصلہ ہو۔اس لئے ولایت جانے کے امر کو چھوڑ کر میں فی الحال خط کی ایک اور بات کی نسبت جو انہوں نے لکھی ہے۔کچھ کہتا ہوں گو میں اس بات کی نسبت ایسا نہیں سمجھتا کہ ہماری جماعت میں اس حد تک پائی جاتی ہے۔لیکن پھر بھی اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔کیونکہ اسی بات کی نسبت جو انہوں نے اپنے خط میں لکھی ہے مجھے باہر سے اور کئی لوگوں کی شکایت بھی آئی ہے۔وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ قادیان میں عموماً " عام لوگ آپس میں السلام علیکم نہیں کہتے۔لیکن خصوصیت سے وہ لوگ جو کہ بڑے عہدوں پر متمکن ہیں۔میرے خیال میں یہ ان کا خیال صحیح نہیں موجودہ زمانہ میں سلام کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہو گیا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔مثلاً بعض طبائع