خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 390

390 تعبیر کو بتانے کے لئے باہر تشریف لائے تو لڑائی اور جھگڑا دیکھ کر آپ اس نکتہ کو بھول گئے اور وہ آپ کے دماغ سے نکل گیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو لیلتہ القدر کے متعلق بتانے آیا لیکن تمہارے اس اختلاف اور لڑائی کو دیکھ کر بھول گیا۔اب تم لیلتہ القدر کو رمضان کے پچھلے عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی لیلتہ القدر کو معین نہ کیا۔اسی طرح بعض صوفیاء کرام اور روحانی علماء کے نزدیک بھی لیلتہ القدر رمضان کی پہلی دس راتوں میں سے کسی میں بھی ہو سکتی ہے پس اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام رمضان کا ہی مہینہ لیلتہ القدر ہے اور خدا کی رحمتوں اور برکتوں کو جذب کرنے والا ہے۔اب جب کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی معین رات بیان نہیں کی۔اور نہ ہی کسی خاص رات کو صوفیاء کرام اور علماء روحانی نے معین کیا ہے بلکہ ان کا اس میں اختلاف ہے۔حتی کہ بعض ۲۷ تاریخ رمضان کی قرار دیتے ہیں۔اور بعض پہلی دس راتوں میں سے کوئی قرار دیتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جمعہ اور ۲۷ رمضان کی تاریخ اکٹھی ہو جائے۔تو لیلتہ القدر اس شب ہوگی پس ان تمام روایات کے ہوتے ہوئے ہم حضرت صاحب کے متعلق اس روایت کی تعبیر کریں گے اور یہ کہیں گے کہ جمعہ کی خصوصیات اس بات کی مقتضی ہیں کہ جمعہ اور ۲۷ تاریخ رمضان مل جائیں۔تو اس رات لیلتہ القدر ہو لیکن یہ ہم یقینی اور حتمی نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ خدا کسی قاعدے کا پابند نہیں۔اس کے لئے ضروری نہیں۔کہ وہ ۲۷ کو ہی لیلتہ القدر کرے۔اور نہ ہی خدا نے تمہارے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ میں ۲۷ کو ہی لیلتہ القدر کروں گا اور اس سے پہلے نہ کروں گا۔پھر خدا تعالیٰ اپنے پاس استثنا رکھتا ہے۔اور وہ استثناؤں سے اپنے قولوں اور فعلوں میں تغیر کر سکتا ہے۔تم خدا کو مجبور نہیں کر سکتے کہ ضرور وہ تمہارے کہنے کے مطابق ہی کرے اور تمہاری مرضی کے موافق کرے۔ہاں تم اس کو رمضان کے آخری عشرے کی و تر راتوں میں تلاش کر سکتے ہو اور تم ان روحانی برکتوں کو جو اس میں نازل ہوتی ہیں حاصل کر سکتے ہو۔بشرطیکہ تم اختلاف اور لڑائی جھگڑوں کو چھوڑ دو۔کیونکہ یہی نکتہ لیلتہ القدر میں بتایا گیا ہے کہ لڑائی جھگڑے اور اختلاف روحانی برکات کو مٹا دیتے ہیں اور خدا کے غضب کو کھینچتے ہیں۔اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم نے اپنے شوقوں اور تیاریوں سے بتا دیا تھا کہ تم کس قدر لیلتہ القدر کے برکات کے حصول کے لئے بے چین ہو مجھے تمہاری درخواستوں سے تمہاری بیچینی اور گھبراہٹ کا اندازہ ہوتا تھا کہ تم اس کے برکات کے حاصل کرنے کے لئے بڑے مشتاق ہو۔