خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 388

388 مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب بھی کبھی جمعہ اور ۲۷ تاریخ رمضان کی اکٹھے ہو جائیں۔تو یقیناً اس رات شب قدر ہوتی ہے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ روحانی امور کے سمجھنے میں بہت وقت ہوتی ہے۔بسا اوقات ان روحانی امور میں اشاروں سے کام لیا جاتا ہے پھر بعض اوقات ان امور میں سے کچھ مستثنیات ہوتیں اور بعض اوقات ان میں استعارے اور کنائے اس کثرت سے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عام فہم لوگ اس کو آسانی سے سمجھ نہیں سکتے۔مگر باوجود ان پیچیدگیوں اور استعاروں کے پھر اس میں شبہ نہیں کہ لیلتہ القدر عام طور پر رمضان کی ۲۷ تاریخ کو ہوتی ہے۔کیونکہ یہی مذہب صوفیاء کا تھا اور یہی خیال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معلوم ہوتا ہے اور نہ صرف یہ عقیدہ صرف صوفیاء کا اور حضرت مسیح موعود کا تھا۔بلکہ اس کی تائید تواتر سے بھی ہوتی ہے اور اسی کی تائید میں ایک کثیر حصے کا خیال اور عقیدہ ہے۔چنانچہ ساٹھ فیصدی علماء اور صوفیاء اس عقیدے کی تائید کرتے ہیں۔اور چالیس فیصدی کا یہ خیال ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسی میں ہوتی ہے اور پھر ایک اور خیال یہ بھی ہے کہ رمضان کی پہلی دس راتوں میں بھی لیلتہ القدر ہو جاتی ہے۔ان تمام روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمعہ کی رات اور دن میں جو خصوصیات ہیں وہ اور دنوں میں نہیں اور جب اس دن رمضان کی بھی ۲۷ تاریخ ہو تو وہ خصوصیات اس بات کی متقتضی ہیں کہ لیلتہ القدر جمعہ کی رات کو ہو لیکن ہم یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جب رمضان کی ۲۷ تاریخ اور جمعہ مل جائیں۔تو ضرور ہی اس رات لیلتہ القدر ہو گی۔پھر اس روایت کے متعلق یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ حضرت صاحب نے وہ بات کسی اور رنگ میں بیان کی ہو اور سننے والے نے اسے اور رنگ میں سمجھ لیا ہو پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سننے والے کو غلطی لگ گئی ہو اور وہ اس منشاء کو نہ سمجھا ہو جس کو مد نظر رکھ کر یہ بات حضرت صاحب نے بیان کی ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ جس بات کے ضمن میں یہ بات کہی گئی ہو۔اسے وہ بھول گیا ہو اور صرف اتنی بات اسے یاد رہی ہو۔پس کسی بات کو سمجھنے کے لئے موقعہ اور محل کا معلوم ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ موقعہ اور محل اور طرز کلام اور سلسلہ گفتگو یہ سب کلام کے جزو اعظم ہیں۔بعض دفعہ انسان ایک بات ایک سلسلہ کلام میں ایسی کہہ جاتا ہے کہ اگر اس کو یوں کہے تو سننے والے کو بری لگے۔پس ہو سکتا ہے کہ سلسلہ گفتگو اور طرز کلام یا موقعہ محل اس کو یاد نہ رہا ہو۔اور وہ بھول گیا ہو۔پس یہ ایک روایت ہے اور روایتوں میں ہزارہا قسم کے شبہات ہو سکتے ہیں۔اور پیدا ہوتے