خطبات محمود (جلد 8) — Page 381
381 کے جاننے والے کو عالم اور نہ جانے والے کو جاہل کہتے ہیں۔مگر قرآنی اصطلاح کی رو سے ہم اس کو عالم کہیں گے۔جو خدا کا مقرب ہو اور اس کو اس کا عرفان حاصل ہو۔اس تعریف کی بناء پر ہم حضرت ابو بکر کو لبید سے عالم کہیں گے۔حالانکہ ظاہری اصطلاحی علم کی رو سے لبید عالم ہے اور ابو بکر جاہل۔پس آخری زمانہ کے علماء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعریف کی رو سے جاہل ہوں گے باوجود عالم کہلانے کے وہ قرآن کو پڑھیں گے۔لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہ اترے گا۔وہ قرآن کے حافظ کہلائیں گے۔لیکن قرآن کے مغز اور قسم سے ناواقف ہوں گے۔قرآن کریم کے فہم اور مغز سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اس زمانہ کے ایسے علماء نے اس عظیم الشان پیش گوئی کا انکار کر دیا۔جو حضرت مسیح موعود کے وجود باجود سے پوری ہوئی۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔اور پھر میں نے زمین و آسمان کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا۔اس پر نئی زمین اور نیا آسمان بنایا۔آج عالم کہلانے والے اس کشف کو پڑھ کر کہتے ہیں کہ مرزا صاحب مشرک تھے۔وہ خدائی کا دعویٰ کرتے تھے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود نے کشف بیان کر کے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور اگر آپ کو یہ کشف نہ ہوتا تو گویا یہ پیش گوئی پوری نہ ہوتی۔وہ پیش گوئی یہ ہے: خدا تعالیٰ فرماتا ہے : وقالوا اتخذ الرحمن ولدا کہ ایک فرقہ آخری زمانہ میں ایسا ہو گا جو یہ کہے گا کہ رحمن کا بیٹا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لقد جئتم شیئا ادا کہ یہ ان کا مشرکانہ عقیدہ ہے جو اس زمانہ میں اس قدر پھیل جائے گا۔تکاد السموات يتفطرن مند و تنشق الارض و تخر الجبال ہذا اس کے پھیلنے کی وجہ سے قریب ہو گا کہ زمین اور آسمان پھٹ جائیں۔اور پہاڑ آواز دیتے ہوئے گر جائیں۔کیونکہ اس باطل عقیدہ کے پھیلنے کی وجہ سے روحانیت کے تمام راستے مٹ جائیں گے۔وہ زمین کہ جس پر خدا کی عبادت کی جاتی تھی۔اور وہ آسمان جو کہ رحمتوں کو نازل کرتا تھا۔اور وہ دین کے بڑے بڑے جید عالم جو وقتاً فوقتا دین کو اپنے علم سے مدد پہنچایا کرتے تھے قریب ہو گا کہ ! آسمان اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور علماء فوت ہو جائیں۔کیونکہ نظام عالم توحید سے قائم ہے اور اس میں توحید ہی کا جلوہ ہے۔اگر توحید نکال لی جائے تو نہ صرف یہ کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں بلکہ نظام عالم تہ و بالا ہو جائے اور دنیا کا کچھ باقی نہ رہے۔