خطبات محمود (جلد 8) — Page 372
372 عبد کہلا۔کامل عبد وہی ہو سکتا ہے۔جس میں دونوں صفتیں موجود ہوں۔یعنی جہاں وہ اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہو۔وہاں اس میں یہ بھی طاقت ہو کہ نافرمانی کرنے پر بھی قادر ہو۔اور باوجود نا فرمانی کی طاقت رکھنے کے پھر وہ اپنے مالک کی اطاعت کرے۔اور اس کا فرمانبردار ہو۔آگے ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ جو کہتا ہے کہ میرے عبد بن جاؤ تو کیا اس عبد کے لفظ کے معنے خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی وہی ہیں۔جو عرف میں استعمال ہوتے ہیں۔اور کیا ان ہی اغراض کو پورا کرنے کے لئے عبد بنے کا حکم دیا ہے۔جن اغراض کو پورا کرنے کے لئے ایک آقا ایک غلام کو خریدتا ہے۔اور اس سے مختلف کاموں میں اپنا ہاتھ بٹاتا ہے۔جیسا کہ بعض اوقات ایک آقا ایک غلام کو اس لئے خریدتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے بوجھوں کے اٹھانے میں اپنے آقا کا ہاتھ بٹائے۔اور اس کی مدد کرے یا بعض اوقات ایک مالک ایک نوکر اس لئے رکھتا ہے کہ وہ اگر باہر سفر پر جائے یا کسی اور غرض سے گھر سے نکلے تو وہ اس کی عدم موجودگی میں گھر کی حفاظت کرے یا جب وہ سایہ دار درخت کے نیچے آرام کرنے کی خاطر بیٹھ جائے تو نوکر اس کی جگہ ہل چلائے اور اس کے کام میں اس کی مدد کرے۔پھر بعض اوقات ایک آقا غلام کو اس لئے خریدتا ہے کہ دشمنوں کے دلوں میں اس کی دہشت بیٹھ جائے اور کسی دشمن کو طاقت نہ ہو کہ وہ اس پر کسی غفلت کے وقت حملہ کر سکے۔بسا اوقات ایک آقا ایک غلام کو اس لئے خریدتا ہے کہ وہ آقا کے لئے باڈی گارڈ بننے کا کام دے سکے اور ہر وقت اس کے ساتھ سایہ کی طرح لگا رہے تاکہ کوئی دشمن اس پر کہیں اچانک حملہ نہ کر دے۔اور اس کو جان سے نہ مار دے۔پھر بعض دفعہ غلام ظاہری شان و شوکت کے دکھلانے کے لئے خریدا جاتا ہے اور جب اس کا آقا بازار میں سیر کے لئے نکلتا ہے تو وہ لوگوں کو راستہ سے ہٹاتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ راستہ صاف کر دو میرا آقا آتا ہے اور اس طرح لوگوں پر اپنے آقا کی شان و شوکت ظاہر کرتا ہے۔لیکن کیا خدا بھی تمہارا محتاج ہے اور تمہیں اس لئے عبد بناتا ہے کہ تم اس کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاؤ یا اگر وہ باہر سفر کو جائے۔تو تم گھر کی حفاظت کرو یا اس لئے کہ تمہارے عبد بننے کی وجہ سے اس کے دشمنوں کے دلوں میں اس کی دہشت اور خوف بیٹھ جائے۔یا اس لئے کہ تم اس کے باڈی گارڈ بنو اور اس کے غفلت کے وقتوں میں اس کی اس کے دشمنوں سے حفاظت کرو۔یا اس لئے کہ وہ تمہارے ذریعے اپنی شان و شوکت اور جلال ظاہر کرے۔ہر گز نہیں، خدا اپنے جلال اور شان و شوکت کے ظاہر کرنے میں تمہارا محتاج نہیں اس کا جلال تو اب بھی اسی طرح ظاہر ہے جس طرح پہلے ظاہر تھا اور جب تم نہ ہو گے تب بھی اسی طرح