خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 371

371 گیلی مٹی کسی فاعل کے اثر سے جلدی متاثر ہو کر اس کے نقش کو جو وہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔قبول کر لیتی ہے۔اس لئے جو لوگ اپنا عجز اور انکسار ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔وہ اپنے آپ کو خاک سے تشبیہہ دیتے ہیں۔اور خاکسار کہلاتے ہیں۔اس طرح تذلل اور عاجزی کے اظہار کو مد نظر رکھتے ہوئے عربی زبان میں یہ محاورہ ہے کہ تربت یدکی یعنی خاک آلودہ ہوں تیرے ہاتھ۔یہ محاورہ عرب لوگ اس وقت بولتے ہیں۔جب کسی کی ذلت اور عاجزی ظاہر کرنا یا اس کے استحقار کو ظاہر کرنا منظور ہو۔اور اس محاورہ میں مٹی کے لفظ کو لانے کی یہی حکمت ہے کہ مٹی میں جس قدر تذلل اور بجز ہے اور کسی چیز میں نہیں۔یہ اپنے اندر کامل تذلل کا سامان رکھتی ہے۔اور سامان رکھنے کے ساتھ ہی یہ مختلف قسم کی شکلیں بھی اختیار کر سکتی ہے اگر تم باریک مٹی کو کسی چوڑے برتن میں ڈالو گے تو وہ چوڑی شکل اختیار کرلے گی۔اور اگر گول برتن میں ڈالو گے تو گول شکل اختیار کرلے گی۔اسی طرح گیلی مٹی کو جن شکلوں میں ڈھالنا چاہو گے وہ ڈھل جائے گی۔اور تم اس سے مختلف قسم کے برتن لوٹے پیالے وغیرہ بنا سکتے ہو۔اسی طرح اینٹیں بن سکتی ہیں۔جن سے تمہارے اعلیٰ درجے کے رہائشی مکان تیار ہوا کرتے ہیں۔اس امر کی طرف متوجہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا ہے۔اور مٹی کے بنانے سے یہ غرض ہے کہ جس طرح مٹی ہر قسم کے اثرات سے متاثر ہو کر اپنے اندر بیسوں قسم کے نقوش جذب کر سکتی ہے۔اور وہ اس قابل ہو سکتی ہے کہ مختلف قسم کی شکلیں اختیار کر سکے۔اسی طرح بندہ میں خدا تعالٰی نے ایسی طاقت رکھ دی ہے کہ وہ نیکی اور بدی دونوں راہوں پر چل سکتا ہے اور دونوں صفتوں کو اپنے اندر جذب کر سکتا ہے۔اگر بندہ کے اندر بدی کو قبول کرنے کا مادہ نہ رکھا جاتا اور یہ فرشتوں کی طرح نیکی ہی پر قادر ہوتا اور بدی کے نزدیک نہ جا سکتا تو یہ ہر گز اس قابل نہ ہوتا کہ اس کو اعلیٰ درجے کے انعام دیئے جائیں۔اور نہ ہی اس لائق ہوتا کہ اس کے مدارج کی ترقی ہوتی۔پس خدا تعالٰی کا انسان کو بار بار یہ فرمانا کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تو مٹی کی طرح اپنے اندر تبدیلی کر سکتا ہے۔اور مختلف قسم کے نقوش نیکی اور بدی کے اپنے اندر جذب کر سکتا ہے۔اور ان کے اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔باوجود مختلف تاثرات کو قبول کرنے کے پھر ایک خاص صورت اور شکل اختیار کرنے کا حکم دیا۔اور فرمایا کہ نیک ہو جا اور میرا عبد بن جا اور ہماری ذات کے عکس کو اپنے اندر جذب کر اور کامل