خطبات محمود (جلد 8) — Page 370
370 61 (فرموده ۱۸ اپریل ۱۹۲۴ء) پیدائش انسان کی غرض شهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا میں نے پچھلے جمعہ میں اس امر کے متعلق توجہ دلائی تھی کہ رمضان کے فوائد میں سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر خدا تعالٰی نے ایسے اوقات عبادتوں کے لئے رکھ دیئے ہیں۔که اگر انسان ان اوقات میں خدا تعالیٰ کی عبادت کامل تذلل اور پورے خشوع و خضوع سے کرے تو یقیناً اپنے محبوب سے مل سکتا ہے۔اور اس مقام پر پہنچ سکتا ہے کہ اگر اس مقام سے اس کو تمام دنیا کی حکومتیں مل کر بھی گرانا چاہیں۔تو بھی اس کے پائے ثبات کو لغرش نہیں دے سکتیں۔یہ وہ مقام ہے جس پر پہنچنے کے بعد اس کو گرنے کا ذرا احتمال نہیں رہتا۔اور اس کو خدا کا قرب حاصل ہو جاتا ہے جس سے بڑھ کر دنیا و آخرت کا کوئی انعام نہیں۔آج پھر میں اسی مضمون کے دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون الدرایت (۵۷) کہ میری جن و انس کے پیدا کرنے سے صرف ایک غرض ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے عبد بن جائیں۔اور میرا قرب حاصل کرنے کے لئے جو تکالیف ان کو میری راہ میں پیش آئیں۔ان کو برداشت کرتے ہوئے ان میں سے بآسانی گذر جائیں اور حرف شکایت زبان پر نہ لائیں۔جب کوئی اس طرح کرتا ہے۔تب وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے۔کہ میرا عبد کہلا سکے۔عبودیت کے معنی عربی زبان میں کامل عاجزی اور تذلل کے ہیں۔تذلل کہتے ہیں۔کسی چیز کا کسی دوسری چیز کے اثر سے متاثر ہونا۔اور اس کے نقش کو قبول کرنا۔مثلاً انسان نرم مٹی پر ہاتھ مارتا ہے۔تو اس پر ہاتھ کا نقش بن جاتا ہے۔اس نقش کو عربی زبان میں تذلل کہتے ہیں اور چونکہ