خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 369

369 ٹوٹ جائے تو وہ بھی خدا سے مانگ۔لیکن مانگنے میں تمہارا سب سے بڑا مقصد خدا کا مانگتا ہو۔اور اس کی ملاقات ہو۔حضرت صاحب فرماتے ہیں۔انبیاء خدا کے صور ہیں۔ان کی دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔اسی طرح جو ان کے جانشین ہوتے ہیں۔ان کی دعائیں بھی خصوصیت سے سنی جاتی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔اور خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے ان سے دعائیں کرانی چاہئیں۔کیونکہ یہی تمہارا سب سے بڑا مقصد ہے ابھی تھوڑے دن ہوئے۔مجھے بتایا گیا کہ ایک آدمی نے کسی سے کہا۔خلیفہ کو دعا کے لئے لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن وہ نہیں جانتا کہ جس جگہ خلیفہ بیٹھا ہے۔وہ خدا کے فرستادہ کی جگہ ہے پھر یہ وہ مقام ہے۔جہاں کئی لوگ خدا کے مقرب ہیں اور اسی کی آواز کو سننے والے ہیں۔اور یہاں کی اینٹ اینٹ خدا کے مسیح موعود کی صداقت کی دلیل ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مارٹن کلارک کے مقدمہ کے وقت مجھے بھی دعا کے لئے کہا تھا۔میری عمر اس وقت دس سال کے قریب ہو گی۔مجھے دعا کے لئے کہنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ میرے اندر بہت اخلاص تھا۔وہ تو بچپن کی عمر تھی۔بلکہ اس لئے کہا تھا کہ خدا چھوٹے بڑے نیک و بد سب کی دعا سنتا ہے لیکن جب دس سال کے محمود کو خدا کا نبی دعا کے لئے کہتا ہے۔تو کون ہے کہ ۳۵ سال کے محمود کو دعا کے لئے لکھنے سے منع کرنا جائز سمجھتا ہو۔جو کوئی یہ خیال رکھتا ہو اس کی یہ نابینائی ہے کو نہ نظری ہے اور اندھا پن ہے جس کا علاج کرانا چاہیئے۔اور وہ علاج یہی ہے کہ تم خدا کے حصول کے لئے خود بھی دعاؤں میں لگ جاؤ۔اور جو خدا کے مقرب ہیں۔ان سے بھی دعائیں کراؤ۔اور تمہاری اصل دعا ایک ہی ہو کہ اے خدا ہم تجھے ملنا چاہتے ہیں۔تو کہاں ہے۔اور اس دعا کو ختم نہ کرو۔جب تک کہ ہر شدون نہ سن لو تم سنتے ہو کہ پیچھے قطب اور ولی گذرے ہیں۔لیکن اگر تم اس نصیحت پر عمل کرو گے تو یقیناً تمہارے بچے اور عورتیں بھی قطب اور ولی ہو جائیں گی بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي يكون في رمضان ۲ مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال خاتم الذهب والتحرير على الرجل ۳۰ ترندی و ابن ماجه بروایت مشکوة کتاب الصوم باب قيام شهر رمضان ۴۰ بخاری کتاب الصوم باب انی صائم اذا شتم الفضل ۲۲ اپریل ۱۹۲۴ء)