خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 354

354 تب بھی نہیں مرا۔اس پر ماں شیخ مار کر روتی اور کہتی کہ اے لڑکے تجھ پر یہ یہ مصائب آئے۔اسی طرح اس لڑکے نے پلاؤ کے متعلق شکایت کی کہ کھانے کو مجھے کپڑے دیتے تھے۔مگر میں پھر بھی نہ مرا۔وہی مثال ان کی ہے اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے ایسے بے شرم نکلے کہ ہمارے ہو کر ہمارے کہلا کر ہم سے کھا کر ہم پر ہی حملہ شروع کر دیا۔اور پھر شکایت کرتے ہو کہ ہم سے بلا وجہ بد سلوکی کی گئی۔بلا وجہ کا نکتہ ستم ظریفی تو آپ ہی ظاہر ہے۔ظلم یہ بیان کئے ہیں کہ ہم سے تمسخر کیا گیا۔لیکن یہ نہیں لکھا کہ کیا تمسخر کیا گیا۔طرز سے معلوم ہوتا ہے کہ تحقیق کے وقت جو سوالات کئے گئے ہیں۔ان کا نام تمسخر رکھا گیا ہے۔اگر تحقیق تمسخر ہے تو سنجیدگی کس چیز کا نام ہے۔پھر لکھا ہے کہ غیظ و غضب کی نظریں ہم پر ڈالی گئیں۔نظروں کا اندازہ لگانا تو ایک مشکل امر ہے۔لیکن اگر مذکورہ بالا افعال پر لوگوں کو غضب آیا تو اس میں برائی کی کون سی بات ہے۔پھر لکھا ہے کہ ہم پر آوازے کے گئے۔یہ بھی ایک معمل فقرہ ہے۔اور صرف حقیقت کو مٹانے کے لئے ہے۔کس نے آوازے کے اور کیونکر کے ہمیں تو جہاں تک معلوم ہے۔ایسا بالکل نہیں کیا گیا۔پھر لکھا ہے کہ گلیوں میں چلنے پھرنے سے ہمیں روکا گیا۔یہ بھی بالکل افتراء ہے کسی نے ان لوگوں کو گلیوں میں چلنے پھرنے سے نہیں روکا۔آپ لوگ جو سامنے بیٹھے ہیں۔جانتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔پھر لکھا ہے کہ ڈنڈوں والے بھیجے گئے جو ہمیں ادھر سے ادھر لے گئے۔یہ عجیب خلاف شرم اور حیا سوز بیان ہے۔اور احسان فراموشی کا ایک حیرت انگیز نمونہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ مجلس شوری کے وقت مولوی رحیم بخش صاحب نے ایک رقعہ مجھے دیا۔جو مہر محمد خاں کا تھا۔اور میر محمد اسحاق صاحب کے نام تھا۔اس میں یہ خواہش کی گئی تھی کہ مجھ تک وہ معاملہ پہنچا دیا جائے۔اس رقعہ کا مضمون یہ تھا کہ محفوظ الحق صاحب کو اپنی بیوی کے بعض رشتہ داروں کی طرف سے خطرہ ہے کہ وہ فساد نہ کریں۔چونکہ ایسے موقعہ پر طبائع میں اشتعال کا پیدا ہو جانا طبعی امر ہے مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں ایسا ہی نہ ہو جائے۔تو یہ لوگ ایک تھپڑ کو قتل کے نام سے منسوب کر دیں گے۔میں نے اس وقت مولوی رحیم بخش صاحب کو مقرر کیا کہ میاں بشیر احمد صاحب کو کہیں کہ فوراً ان لوگوں کو سمجھا دیں اور ایسا پہرے کا انتظام کرا دیں کہ کوئی ان کو کچھ کہے نہیں۔انہوں نے محمد امین خان صاحب بخارائی اور چند اور آدمیوں کو مقرر کر دیا۔چونکہ مولوی محفوظ الحق نے جانا تھا۔وہ اس کے ساتھ ہو کریکہ تک سوار کر آئے۔تاکہ ان کا کوئی رشتہ دار ان کے ساتھ جھگڑے نہیں۔اور یہ لوگ ان کا بو جھل اسباب بھی اٹھا کر لے گئے۔اس احسان کا نام اس کی حفاظت کا نام اس شخص نے یہ