خطبات محمود (جلد 8) — Page 353
353 شرمی۔خیانت اور بددیانتی کس چیز کا نام ہے۔یہ الفاظ جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔پھر ان کا مورد کیا ہے۔اگر یہ امن پسندی ہے تو جیل خانوں والے تو بڑے پارسا اور نیک ہوں گے چور جو چوری کے لئے جاتا ہے رات کو چلتا ہے۔اور اپنی نیند خراب کرتا ہے۔وہ بھی بڑا امن پسند ہو گا۔کیونکہ وہ دنیا میں لڑائی نہیں کرنا چاہتا۔اسی طرح وہ قاتل بہت امن پسند ہو گا جو قتل کر کے چھپ جاتا ہے۔تاکہ دنیا میں لڑائی کی آگ نہ بھڑک اٹھے۔وہ دنیا کو لڑائی سے بچاتا ہے اور خود تکلیفیں اٹھاتا ہے۔جنگلوں میں مارا مارا پھرتا ہے اسی طرح خفیہ زہر دینے والا کتنا امن پسند انسان ہے کہ اگر وہ بتا کر دے تو لڑائی ہو جائے۔اسی طرح وہ دھوکہ باز جو دوسرے کی جائداد لینے کے لئے جھوٹی دستاویز میں بناتا اور جھوٹے تمسک لکھتا ہے۔یہ کہہ کر امن پسند کہلا سکتا ہے کہ میں نے گورنمنٹ کی معرفت جھوٹی دستاویزوں کے ذریعہ سے اس لئے قبضہ کیا ہے۔تا امن رہے اور لڑائی نہ ہو۔اگر اسی کا نام امن پسندی ہے۔تو یہ سب لوگ جو قید خانوں میں ہیں۔نہایت ہی امن پسند تھے۔اور بڑے را ستہاز اور پار سا تھے۔اگر یہ سب لوگ امین ہیں تو وہ لوگ بھی جنہوں نے نیکی و تقویٰ کو بالائے طاق رکھ کر ہم سے تنخواہیں لیں۔اور ہمارے خلاف مضامین لکھے مولوی کہلا کر احمدیت کے مبلغ بن کر ہمارے لوگوں کو ورغلایا۔اور پھر ان کو کہا کہ دیکھو کسی کو بتانا نہیں نا کہ کوئی اس زہر کا ازالہ نہ کر دے۔جو ہم تم کو پلا رہے ہیں۔امن پسند کہلا سکتے ہیں۔پھر لکھتا ہے۔کہ ہمارے ایسی با امن راہ اختیار کرنے کے باوجود ہم سے ارباب قادیان نے ناجائز سلوک کیا۔" بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے۔کہ ایک بیوقوف بادشاہ تھا اس نے کہا کہ میں تو اپنی لڑکی کا رشتہ اس شخص سے کروں گا جو آسمان سے گرے گا۔اتفاق سے بگولا جو آیا۔تو اس نے ایک پہاڑی آدمی کو جنگل سے اٹھا کر وہاں لا پھینکا لوگوں نے بادشاہ کو اطلاع دی۔اس نے کہا یہ آسمان سے گرا ہے۔اور اپنی لڑکی کی شادی اس سے کر دی۔وہ بیچارہ زمین پر لیٹ رہنے والا جوار کی روٹی کھا کر گزارہ کرنے والا۔اگر وہ بھی مہیا نہ ہو۔تو درختوں کے پھل وغیرہ پر زندگی بسر کرنے والا تھا اس کے لئے شاہی محل میں رہنا مصیبت ہو گئی۔جب وہ واپس گھر آیا۔تو ماں نے کہا۔بیٹا تیرا کیا حال رہا۔اس نے کہا۔اے ماں وہاں میرے نیچے بھی روئی بچھا دیتے تھے۔اوپر بھی روئی اڑھا دیتے تھے اوپر سے خوب تھکتے تھے۔(یعنی لحافوں اور تو شکوں میں لٹا کر اوپر سے دباتے تھے) اے ماں میں