خطبات محمود (جلد 8) — Page 352
352 پھر کہتا ہے۔غیر احمدی سے رشتہ جائز سمجھتے ہیں۔" یہ بھی دھوکا ہے اور یہ بتانا چاہا ہے کہ گویا ہمارے عقیدہ سے بیزاری ظاہر کی ہے۔حالانکہ بہائیوں کے عقیدہ کے ماتحت نکاح کی یہ قید فضول ہیں۔ان کے نزدیک عیسائی اور ہندو اور زرتشتیوں اور سکھوں سے بھی رشتہ جائز ہے۔چنانچہ امریکہ میں بہائی عورتیں عیسائی خاوندوں کے ساتھ رہتی ہیں۔پھر لکھتا ہے۔”قادیان میں جو غلو حضرت صاحب کی ذات کے متعلق ہو رہا ہے۔اس کو دنیائے اسلام کے لئے مضر خیال کرتے ہیں۔" یہ عجیب بات ہے۔جب کہ تم اسلام کو منسوخ سمجھتے ہو۔تو اس کے لئے مضر یا مفید سمجھنا کیا معنے۔لیکن اسلام سے وہ اسلام مراد نہیں۔جو اس تحریر کے پڑھنے والوں کے ذہن میں آتا ہے۔۔بلکہ اسلام سے وہی مذہب مراد ہے۔جو بہاء اللہ لایا۔چنانچہ یہ لوگ بہاء اللہ کے مذہب کو اسلام کہنے پر یہ دلیلیں دیا کرتے ہیں کہ چونکہ پہلے نبیوں کے مذہبوں کو بھی اسلام کہا گیا ہے اس لئے اسلام ہر بچے مذہب کا نام ہے۔اور اب چونکہ بہا اللہ کا مذہب ہی سچا ہے۔لہذا وہی اسلام ہے اور دنیائے اسلام سے وہی مراد ہے۔چونکہ یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت اقدس کی تعلیم کا یہ نتیجہ ہو گا۔کہ بہائی مذہب بالکل نہیں پھیل سکے گا۔اس لئے اس نے یہ لکھا ہے کہ احمدیت کو بہائی مذہب کے لئے مضر خیال کرتے ہیں مگر اس نے ہر فقرہ منافقت سے لکھا ہے۔تاکہ ظاہر میں لوگ یہ۔سمجھیں کہ اس نے اسلام کی حمایت کی ہے۔مگر اصل مراد بہائیت کی تائید ہے۔پھر لکھتا ہے ہماری جماعت نے کوئی فتنہ پردازی اور بددیانتی نہیں کی۔خدا شاہد ہے کہ ہم نے ہر طرح امن و عافیت کی راہ اختیار کی تھی۔" گویا مخفی طور پر یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ امن و عافیت قائم رہے اور کسی قسم کا فساد نہ ہو جائے لیکن اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی چور کو پکڑے اور اس کو کہے کہ تو نے چوری کیوں کی۔تو وہ کے۔حضور! اس لئے کہ اگر میں اس کی چیز اس کے سامنے اٹھاتا۔تو یہ مجھ سے لڑتا۔لہذا امن قائم رکھنے کے لئے میں نے یہ راہ اختیار کی ہے۔تو یہ عجیب قسم کا امن ہے۔سیندھ لگاتے ہو۔اور کہتے ہو۔خدا شاہد ہے۔محض امن کے لئے ایسا کیا ہے۔کیا اسی کو امن کہتے ہیں۔کسی قوم میں داخل رہ کر اس کے عقائد کی اشاعت پر تنخواہ لے کر اپنے عقائد کی اشاعت کرنا اس کے مبلغ کہلا کر اس قوم کے افراد کو اس کے اصول کے خلاف تعلیم دینا اور یہ بھی کہنا کہ کسی کو یہ بتانا نہیں۔تا کسی طرح دوسرا اس زہر کا ازالہ نہ کر دئے۔اگر یہ امن پسندی ہے۔تو بے حیائی۔بے