خطبات محمود (جلد 8) — Page 35
35 تعداد میں تھوڑی نہیں بڑی بڑی ہیں۔واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ان کی تعداد ایک کروڑ ہے اگر ہندو ان پر قبضہ جما لیں تو وہ ہندو ہو جائیں۔ان جماعتوں میں سے ایک جماعت راجپوتوں کی ہے جو ملکانہ کہلاتی ہے اور یو پی کے علاقہ میں آباد ہے۔یعنی آگرہ ، علی گڑھ ، فرخ آباد۔متھرا وغیرہ علاقوں میں ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ بتائی جاتی ہے ان میں اسلام کسی وقت داخل ہوا مگر مسلمانوں کی سستی کے باعث اسلام ان میں رچا نہیں۔اب ان میں سے بعض میں کچھ رسوم مسلمانوں کی پائی جاتی ہیں۔مثلاً ختنہ کراتے ہیں۔مُردوں کو دفن کرتے ہیں۔نکاح ملا سے پڑھواتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کی رسوم بھی ان میں موجود ہیں۔ان کے بعض گھروں میں بہت ہیں جن پر وہ نذریں چڑھاتے ہیں۔مندروں میں جاتے ہیں۔غرض ان میں بہت سی رسوم ہندوانہ بھی ہیں۔وہ لوگ شاذ کے سوا اسلام سے واقف نہیں۔آریوں نے سولہ سال سے کوشش شروع کی ہوئی ہے کہ جس قدر بھی ان لوگوں کو اسلام سے ہے اس سے ہٹا کر اپنے خیالات ان میں پھیلائیں اور ان کو شدھ کر لیں۔اس کے لئے آریوں نے ان کو کہنا شروع کیا۔تم لوگ تو ہو ہی ہندو۔مسلمان بادشاہوں کی سختی یا کسی لالچ کی وجہ سے تمہارے بزرگوں نے اسلام کی یہ ظاہری شکل اختیار کرلی تھی۔پھر ہمسایہ مسلمانوں کی بعض غلطیاں اور موجودہ مسلمانوں کی بعض اخلاقی کو تاہیوں اور جبرو تعدی کے باعث ان میں یہ خیال راسخ ہو چلا ہے کہ وہ در حقیقت ہندہ ہیں۔آریوں کی کوشش کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی جماعت تیار ہو گئی ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر ہندو ہو جائے۔چند مہینے گزرے ہیں کہ یہ بات ظاہر ہوئی۔وہ بھی اس طرح کہ جب آریوں کا قبضہ ہو گیا۔تو اس وقت آریوں کو روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔جس کے لئے انہوں نے اپیل کی۔اس سے مسلمانوں کو علم ہوا۔پہلے عام طور پر مسلمانوں کو یہ حال معلوم نہ تھا اور نہ ان کا اتنا حلقہ عمل معلوم تھا۔اس وقت تک مسلمانوں نے جو کوشش کی ہے۔وہ بار آور نہیں ہوئی۔ہمارے مبلغوں نے لکھا ہے کہ جو لوگ شدھ ہو رہے تھے ان کو کچھ مسلمان سمجھانے کے لئے گئے۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگر تم آؤ گے تو ہم قتل کر دیں گے۔یہ جوش بتاتا ہے کہ اسلام سے ان کو کس قدر بعد ہو گیا ہے۔ہندوؤں میں سے اگر ایک شخص مذہب تبدیل کرلے اور مسلمان ہو جائے تو ان میں کہرام مچ جاتا ہے اور ہندو لوگ اس کی ہر طرح مدد کرنے اور اسلام سے واپس لانے میں کوشش صرف کرتے ہیں۔اور بڑی بڑی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔چنانچہ شیخ عبدالرحمان صاحب قادیانی جب مسلمان ہوئے تھے۔یہاں اگر حضرت صاحب کے پاس رہنے لگے۔ان کو واپس لے جانے کی بہت کوششیں کی گئیں۔یہ مجھ کو یاد نہیں۔ان کے لئے یا کسی اور نو مسلم کے لئے کچھ ہندو عورتیں بازار میں سے روتی ہوئی گذریں گویا وہ ماتم کر رہی تھیں۔ان کی