خطبات محمود (جلد 8) — Page 284
ہے۔284 میں یہ نہیں کہتا کہ تم اس لئے جماعت بڑھاؤ کہ اور لوگ تمہارے ساتھ شامل ہوں اور تم ایک مضبوط جماعت بن جاؤ۔جو دنیا میں معزز ہو اور دشمنوں کے حملہ سے محفوظ ہو بلکہ اس سے اعلیٰ بات کے لئے تبلیغ کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم اس لئے جماعت کو بڑھاؤ کہ تا اسلام کی حفاظت ہو اور اعلاء کلمتہ اللہ ہو پس تمہاری تبلیغ کی صرف یہی غرض ہو کہ اسلام بڑھے اور اس کی حفاظت ہو۔اپنی نفسانی اغراض کے لئے یہ کام مت کرو بلکہ اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے یہ کام کرو۔میں جانتا ہوں کہ دلوں کا پھیرنا بہت مشکل کام ہے۔ایک آدمی کو پھیر کر لانا بہت مشکل ہے۔بہ نسبت اس کے کہ پہاڑ کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پر رکھا جائے۔لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ دنیا میں بہت کم ایسے دل ہیں جو سچائی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔سارے ابو جہل یا عقبہ نہیں ہو سکتے۔ان کے مقابلہ میں لاکھوں آدمی وہ بھی تو تھے۔جنہوں نے اسلام کو قبول کیا۔بعض ضدی طبائع کو دیکھ کر مایوسی مت اختیار کرو۔بلکہ اس کے مقابلہ میں نیک اور اثر قبول کرنے والی طبائع کا خیال کرو۔میں اس سال کا پروگرام یہ بتاتا ہوں کہ اس سال ہندوستان میں ایسے طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاؤ کہ ہندوستان میں کوئی جماعت ہمیں حقیر اور ذلیل نہ قرار دے سکے او ریہ اس لئے نہیں کہ ہماری عزت ہو اور ہم بڑھیں بلکہ اس لئے کہ اسلام کی عزت ہو اور اسلام بڑھے اور پھر ہمارا کام بڑھنے کی وجہ سے ہمیں زیادہ قربانیوں کا موقع ملے۔اور ہم خدا کے فضلوں کے اور زیادہ مستحق ہوں۔ہمارے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جتنا کوئی ہمیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔اتنا ہی ہمارا ایمان اور بڑھتا ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باوجود ہمارے ذلیل اور کمزور ہونے کے پھر ہمارے کام طاقتوروں سے بھی زیادہ ہیں اور ہمارا امام واقع میں خدا کی طرف سے تھا اور ہماری جماعت واقعی خدا کی طرف سے ہے۔اس لئے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔خدا کی نظر جماعتوں پر نہیں بلکہ زیادہ قربانیوں پر ہوتی ہے پس جب جماعت بڑھے گی۔تو قربانیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جب قربانیاں زیادہ ہوں گی تو ان کے نتیجہ میں اور بھی خدا کے فضل ہم پر نازل ہوں گے۔اس لئے میں تمام جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سال پہلے سے زیادہ تبلیغ کی طرف توجہ کرے۔خصوصیت سے میں جماعت قادیان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے تبلیغ کی طرف توجہ