خطبات محمود (جلد 8) — Page 266
266 سلام سیکھنا باقی تھا اور جو باتیں اس نے بیان کیں ان میں اس کی بہت کچھ نا تجربہ کاری کا بھی دخل تھا اور پھر اس نے بچے دل سے بعد میں تو بہ بھی کرلی۔اس لئے میں نے چشم پوشی سے کام لیا اور اسے معاف کر دیا۔پھر میں اس کا نام بھی نہیں لیتا جس نے مجھے وہ باتیں بتائیں۔کیونکہ وہ بھی بچہ ہے اور ممکن ہے کہ کوئی اس سے زور دیکر پوچھے کہ بتاؤ وہ کونسا شخص ہے جس نے یہ باتیں بیان کی ہیں۔باقی چوہدری صاحب کا نام اس لئے لیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں وہ سمجھ دار آدمی ہیں ان سے کوئی شخص کوئی بات نہیں پوچھ سکتا۔اور اس لئے بھی کہ میں نے تحقیقات کے لئے ایک ذمہ دار آدمی کو مقرر کیا تھا۔انہوں نے رات کے دو تین بجے تک تحقیقات کی چنانچہ چوہدری صاحب کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ جو باتیں مجھ تک پہنچی تھیں۔وہ ضرور کہی گئی تھیں۔اور وہ یہ تھیں۔اس نے کہا قادیان میں مولویوں کو انگری خوانوں سے بڑی عداوت ہے۔اور وہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں نہ صرف یہ کہ انکے دلوں میں عداوت ہے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی یہی سکھایا جاتا ہے۔اور ان میں اس قسم کی عادات پیدا کی جاتی ہیں۔چنانچہ مدرسہ احمدیہ کے لڑکے انگریزی سکول کے استادوں کو نہیں کہتے۔لیکن انگریزی مدرسہ کے استاد اور لڑکے مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں اور استادوں کو السلام علیکم کہتے ہیں۔اور ان کا ادب اور احترام کرتے ہیں۔پھر بیان کیا کہ خصوصیت سے اس جرم کے مرتکب اور بانی مبانی مولوی سید سرور شاہ صاحب اور شیخ عبدالرحمان صاحب مصری ہیں۔اور اس بدظنی کی بنیاد اس امر پر رکھی کہ مولوی صاحب نے ایک دفعہ مبلغوں کے متعلق خطبہ پڑھا تھا جس میں بتایا تھا کہ ضروری ہے کہ ایسے مبلغ باہر بھیجے جائیں جو دین سے واقف ہوں۔ان کیسے بعض فقروں سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے نزدیک اب جو مبلغ جا رہے ہیں وہ ناقص ہیں اور وہ چونکہ انگریزی خواں ہیں اس لئے ان کا یہ مطلب ہے کہ انگریزی خواں کام نہیں کر سکتے۔اس شخص نے یہ بیان کیا کہ اس خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولویوں کے دل میں انگریزی خوانوں سے کتنا بغض ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی خواں تبلیغ کا کام نہیں کر سکتے۔پھر اس شخص نے یہ بیان کیا کہ مولوی سرور شاہ صاحب کھلے طور پر خطبہ جمعہ میں ایسا نہیں کہہ سکتے تھے جب تک ان کے ساتھ مولویوں کا ایک جتھا نہ ہوتا۔اس لئے ظاہر ہے کہ دوسرے مولوی بھی ان کے ساتھ ہیں۔پھر انگریزی خوانوں کے خلاف اس قدر نفرت بڑھ رہی ہے کہ بعض انگریزی خواں کام کرنے والوں کو بھی مولوی کا نام دیا جاتا ہے تاکہ باہر کی جماعتوں کو یہ بتایا جائے کہ جو کچھ کام ہو رہا ہے وہ مولویوں کے ذریعہ ہو رہا ہے اور سلسلہ کے کام مولوی ہی کر رہے ہیں۔جیسے مولوی رحیم بخش صاحب مولوی عبد المغنی صاحب مولوی ذوالفقار علی خان صاحب اور مولوی بشیر احمد صاحب نے اس بارہ میں زیادہ اہتمام کیا ہے اور تحریک کی ہے کہ ان لوگوں کو مولوی ہی کے لقب سے پکارا جائے تاکہ