خطبات محمود (جلد 8) — Page 262
262 خدمت کی ضرورت ہوتی ہے وہ جان دیتا ہے۔اور اس طرح خدمت دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کے اقرار کو آخری سانس تک پورا کر دیا۔اور دکھا دیا کہ خدا کی راہ میں میرے لئے کوئی تکلیف نہیں۔پس وہ ہمارے شکریہ اور حمد کا مستحق ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی تعریف کریں۔اور دراصل جس کی حمد و تعریف خدا کرتا ہے۔اس کی حمد اور کون کر سکتا ہے۔میں خدا کے پر بھروسہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ اس کو خدا کی حمد حاصل ہو گئی۔اللہ تعالیٰ صحابہ کے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے۔من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه و منهم من ينتظر و ما بدلوا الاحزاب (۲۴) مسلمانوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس عہد کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا کہ ہم نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کر دی۔آخری گھڑی تک پورا کر دیا۔اور کچھ ایسے ہیں جو اس عہد پر قائم ہیں کہ آخری دم تک پورا کریں گے۔میں سمجھتا ہوں مولوی عبید اللہ اپنے عمل سے آیت کا مصداق ثابت ہوا ہے۔صحابہ ا کرام میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں لیکن ہماری جماعت میں ابھی اس کی زیادہ مثالیں نہیں ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ جب بدر کی جنگ ہو چکی تو ایک صحابی جو اس جنگ میں کسی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے تھے کہنے لگے اگر میں ہوتا تو یوں لڑتاب پھر جب احد کا موقع آیا اور مسلمانوں کے قدم غلطی سے اکھڑ گئے حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت ایسا آیا کہ آپ اکیلے رہ گئے۔چنانچہ ایک صحابی نے اس حالت میں آپ کو دیکھا مگر اس نے آپ کو نہ پہچانا۔آپ بلندی کی طرف جا رہے تھے۔آپ کا چہرہ چھپا ہوا تھا۔آپ کے ساتھ صحابہ میں سے کوئی نہ تھا اور کفار کا زور ادھر ہی تھا جس طرف آپ تھے۔وہ ایسا وقت تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔وہی صحابی جنہوں نے جنگ بدر کے بعد کہا تھا کہ اگر میں ہوتا تو اس طرح لڑتا۔انہوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ سر جھکائے ہوئے سوچ رہے ہیں کہ اب کیا کریں۔یہ شدت غم کی وجہ سے تھا۔اس صحابی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کیا بات ہے انہوں نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ان صحابی نے کہا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو پھر ہم نے زندہ رہ کر کیا کرتا ہے۔چلو ہم بھی ادھر ہی چلیں جدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہیں۔یہ کہا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کفار کے لشکر میں گھس گئے اور شہید ہو گئے۔جب ان کی لاش دیکھی گئی تو ان کے جسم پر ستر زخم تھے۔اور ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ایک اور صحابی کے متعلق آتا ہے کہ لڑائی میں ان کی ٹانگیں کٹ گئی تھیں وہ شدت درد سے تڑپ رہے تھے۔کہ ایک صحابی ان کے پاس پہنچے اور پوچھا کیا حال ہے انہوں نے کہا پہلے یہ بتاؤ که رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا حالت ہے انہوں نے جواب دیا رسول کریم صلی اللہ علیہ