خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 261

261 قادیان میں تعلیم کے لئے یا ہندوستان سے باہر تبلیغ دین میں بسر ہوئی۔گویا کہ اس کو یتیم کی موت ملی۔وہ دنیا میں اکیلا آیا۔اور اکیلا چلا گیا۔ایسے وقت اور ایسی صورت میں جو احساسات غم ہو سکتے ہیں ان کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔اس کے اور حالات جانے دو۔اس کی یہ موت ہی بہت بڑی قربانی اور اس کے ساتھ نہایت درجہ غم کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔لیکن میں نے اور خوبیوں کے علاوہ اس میں ایک خاص خوبی پائی تھی اور اس خوبی کو اس کی موت نے اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔وہ یہ تھی کہ اس نے دین کے لئے زندگی وقف کرنے کا جو عہد کیا تھا۔اس کو نہایت صبر اور استقلال کے ساتھ نباہا۔اور آخر وقت تک کسی قسم کی شکایت یا تکلیف کے اظہار کا ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہ نکلا۔حالانکہ کئی بڑے بڑے آدمی مشکلات میں گھبرا جاتے اور شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں مالی مشکلات پیش آتی ہیں۔کبھی ان کو رشتہ دار یاد آتے ہیں۔کبھی وطن کا خیال آتا ہے۔لیکن اس لمبے عرصہ میں اس عزیز نے کبھی اپنے کسی خط میں کسی امر کی شکایت اشارۃ " یا کنایتہ " نہیں لکھی۔اور میں نے کبھی اس کے خط سے محسوس نہیں کیا تھا کہ اس کو کوئی تکلیف پہنچ رہی ہے یا اس کو اپنے عزیز و اقارب یاد آتے ہیں۔مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم نے اپنے عہد وقف کو کس درجہ تک نباہا کہ اس کے تازہ خطوط سے معلوم ہوا ہے (ماریشیس سے خطوط بہت دیر کے بعد آتے ہیں) کہ مرحوم کو سل کی مرض ہو گئی تھی اور یہ ایسی مرض ہے کہ جب ڈاکٹر اس کا نام جتا دے تو بڑے بڑے آدمی گھبرا جاتے ہیں۔مگر اس کی حالت عجیب تھی۔آخری خط میں اس نے لکھا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں مجھے سل ہو گئی ہے لیکن میرا خیال ہے ان کی بات غلط ہے۔اور اگر ہو تو بھی خیر۔میں نے بہر حال خدا کے دین کا کام کرتا ہے۔اور وہ میں کر رہا ہوں۔خیال کرو۔جب کہ بڑے بڑے لوگ ڈاکٹروں کے فتوئی کو بہت اہم قرار دیتے ہیں اور سل کا نام سن کر گھبرا جاتے ہیں۔یہ عزیز کس اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو خدا کے کام میں مصروف رکھتا ہے اور دلیری سے اس بات کی تردید کرتا ہے۔گویا کہ وہ اپنی اس نازک حالت میں بھی اپنے کام اور عہد سے غافل نہیں تھا۔اس کے خط سے معلوم ہوا تھا کہ اب کچھ آرام ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے۔چونکہ اس بیماری والے کے لئے بولنا سخت منع ہے۔اس لئے درس اور لیکچر دینے کی وجہ سے اچانک موت واقع ہوئی ہے۔کیونکہ کل ۶ / دسمبر تار آیا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔اور آج تار آیا ہے کہ فوت ہو گئے ہیں۔ان کی موت اس مجاہد کی موت کی طرح ہے جو دشمنوں کی فوج کو مسلمانوں کو پامال کرتا دیکھ کر تلوار ہاتھ میں لے اور کفار کی فوج پر حملہ آور ہو جائے اور لڑتے لڑتے میدان جنگ میں ہی جان دے دے۔وہ وطن سے دور عزیزوں سے دور اور ایسی بیماری میں جس میں اپنے گھر کی چھت کے نیچے عزیزوں کی