خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 260

260 ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہ بوجہ جرمن یا انگلستان یا امریکہ میں کام کرنے کے کسی کی قربانی بڑھ جاتی ہے اور جو دوسرے ممالک میں کام کرتے ہیں ان کی قربانی کم ہوتی ہے۔مگر باوجود اس حقیقت کے اور باوجود برابر کی قربانی کے ماریشیس کے مبلغ گمنامی کے گڑھے میں پڑے ہیں اور ان کے اچھے کام کی داد دینے والے دنیا میں کم ہیں۔حالانکہ وہ خدا کے دین کے خادم ہیں اور ان کا خدمت دین میں جان دیتا ان کو شہادت کا رتبہ دلاتا ہے۔ہر ایک شخص ان حالات کو نہیں سمجھ سکتا جن کو میں سمجھتا ہوں کیونکہ میرے سامنے تمام جماعت کے حالات آتے ہیں۔علاوہ اس کے اگر دوسرے بھی ان خطوط کو دیکھیں جو میں دیکھتا ہوں اور جن سے نتائج اخذ کرتا ہوں تو بھی وہ باتیں نہ معلوم کر سکیں جو میں سمجھ سکتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے قلب میں ان کے متعلق ایک خاص احساس پیدا کرتا ہے۔اور باوجود اس کے کہ وہی باتیں دوسروں کے سامنے آتی ہیں وہ ان کو اور رنگ میں لیتے ہیں۔مگر جب مجھ تک پہنچتی ہیں تو میں ان سے اور مطلب اخذ کرتا ہوں کیونکہ مجھے تمام حالات کا علم ہوتا ہے اور ان کو سارے حالات کا علم نہیں ہوتا۔بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جن سے دوسرے خوش ہوتے ہیں مگر مجھے ان سے رنج ہوتا ہے۔کیونکہ ان میں ایک رنج کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے جو مجھے خدا کے فضل سے معلوم ہو جاتا ہے۔اسی طرح ایک رنج کی خبر ہوتی ہے جس سے دو سرے رنج محسوس کرتے ہیں۔مگر میں خوش ہوتا ہوں کیونکہ اس کے ساتھ ایک خوشی کی اہم بات بھی لگی ہوتی ہے۔جسے دوسرے نہیں دیکھتے۔پس میں اپنے علم و یقین کی بنا پر کہتا ہوں کہ ہمارے ماریشیس کے مبلغوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ خدمت دین کی اور وہ ہمارے اعلیٰ مجاہدوں میں شامل ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا ہے۔خدا کے لئے کیا ہے۔عزیز عبید اللہ کی موت معمولی موت نہیں اور طبعی طور پر ہمارے لئے صدمہ اور رنج کا باعث ہے۔ماریشیس میں اس کے رشتہ دار نہ تھے۔وہ وہاں اپنے رشتہ داروں کے لئے نہ گیا تھا۔نہ وہ بڑی تنخواہ کے لئے گیا تھا۔وہاں اس کو جو تنخواہ ملتی تھی یہاں کے لحاظ سے بھی زیادہ نہ تھی۔حالانکہ یہاں جتنے میں آٹا دس سیر فروخت ہوتا ہے وہاں ۲ سیر بکتا ہے۔مگر وہ اپنی اس تنخواہ میں گزارہ کرتا رہا۔پھر وہ عمر رسیدہ نہ تھا کہ ابتدائی عمر میں دنیا کی خوشیاں دیکھ چکا تھا۔اور آخری عمر میں دین کی خدمت کے لئے نکلا تھا۔وہ سترہ اٹھارہ برس کا نوجوان تھا جب اس نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی۔دنیا کی خوشیوں میں سے ایک بڑی خوشی یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں میں رہے۔مگر اس عزیز نے شروع سے یہ حاصل نہ کی۔اس کی ابتدائی عمر والدین سے جدائی میں طالب علمی کے رنگ میں قادیان میں گزری۔اور جب وہ تعلیم سے فارغ ہوا تو ہندوستان سے باہر چلا گیا باپ کے پاس رہنے کا اس عزیز کو بہت کم موقع ملا۔کیونکہ اس کی جس قدر عمر تھی یا