خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 257

257 44 مولوی عبید اللہ صاحب مبلغ ماریشس کا ذکر خیر (فرموده ک کر دسمبر ۱۹۲۳ء) سورہ فاتحہ اور آیات پایها الذين امنوا استعينوا بالصبر والصلوة ان الله الصابرين ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون ولنبلونكم بشئى من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين الذين اذا اصابتهم مصيبة قالوا انا لله وانا اليه راجعون (البقرة ۱۵۳ تا ۱۵۷) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں جب تک انسان رہتا ہے اس وقت تک اس کو خوشی و غم سے ایک ہی دم میں پالا پڑتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے غم پہلے ہوتا ہے اور خوشی پیچھے اور کبھی خوشی پہلے ہوتی ہے اور غم پیچھے۔کبھی یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔آدمی نہیں جانتا کہ میں خوشی کروں یا غم تو ایک طرف انسان خوشی کے جذبات سے سرور حاصل کر رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف رنج کی کیفیات اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہیں اور اس کو بتا دیتی ہیں کہ تو خواہ کسی حالت میں ہو مگر پھر بھی تو انسان ہے اور رنج اور خوشی دنوں تیری لئے ہیں۔ہاں صرف خدا ہی کی ذات ہے جو ان جذبات سے پاک اور بالا ہے۔اس کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو خوشی اور رنج کے صدمات و اثرات سے پاک ہو۔سوائے اس کے کہ جس کا انجام نیک ہو جائے اور وہ نجات پا جائے۔ایسے شخص کے لئے خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں رنج نہیں ہوتا۔زندوں کے لئے موت مصیبت سمجھی جاتی ہے۔اور اس سے بڑھ کر اور کوئی مصیبت خیال نہیں کی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے۔یعنی دنیا کے ساتھ تعلق یا دنیا کے آراموں سے لطف اس وقت تک ہے جب تک زندگی ہے۔جب جان نہیں تو خواہ ساری دنیا کوئی دے دے کچھ نہیں۔جب تک جان ہے سب کچھ ہے اور جب مرگئے تو دنیا کے لحاظ سے کچھ بھی نہیں۔جان کی حفاظت کے لئے مال اور جائداد خرچ کی جاتی ہے اور کچھ پروا نہیں کی جاتی کہ جان کے بچانے کے لئے کیا خرچ کریں اور کیا بچائیں۔مگر جس کا انجام اچھا ہو اور جس پر موت اس وقت آئے جبکہ وہ خدا سے راضی اور خدا اس سے راضی ہو اس کے لئے موت کی گھڑی خوشی