خطبات محمود (جلد 8) — Page 256
256 جسم سے خون بہنے لگا۔تب انہوں نے کہا کہ جو چاہو سو کرو ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔انہوں نے قرآن کریم دیکھنے کے لئے کہا مگر انہوں نے کہا کہ تم ناپاک ہو تم اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ان کو نہلایا اور پھر قرآن کریم کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ آنکھوں میں آنسو آگئے اور مسلمان ہو گئے ۲۔کیا عمر جو مکہ کے اشد ترین مخالفین میں سے تھے اور گھر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے ہی نکلے تھے ان کے لئے راستہ میں ہی ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ جن سے وہ یک دفعہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔پھر کیا وہ بات جو عمر کے لئے ہو سکتی ہے ایک اور کافر کے لئے نہیں ہو سکتی۔پس اس تعلیم پر عمل کئے بغیر کوئی انتظام نہیں ہو سکتا۔کوئی جماعت اتفاق سے کام نہیں کر سکتی۔علاوہ ازیں رشتہ داری، محبت ، دوستی، تجارت و حکومت کوئی کام نہیں جو حسن ظن کے بغیر چل سکے۔الفسوس ہے کہ بہت سے سے لوگ ہیں جو حسن ظن سے کام نہیں لیتے اور اسلامی احکام کے ماتحت اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔بہت ہیں جو بدظنی خود کرتے ہیں اور الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں۔یہ بات میں نے آج تمہیر کے طور پر کسی ہے۔آج میں صرف اسی قدر تفصیل پر توجہ دلاتا ہوں اگر توفیق ملی تو اگلے جمعہ اس مسئلہ کی طرف توجہ دلاؤں گا۔یہ ایک بڑی عظیم الشان بات ہے اگر اس کی طرف غور کیا جائے تو اس سے بہت سے فوائد مترتب ہو سکتے ہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری جماعت ترقی کرے تو بد ظنی چھوڑ دو۔اور حسن ظن سے کام لینا شروع کر دو۔خواہ تم بظاہر کسی قدر مخالف حالات بھی دیکھو تو بھی بدظنی نہ کرو۔دیکھو اس صحابی نے بد ظنی کی اس شخص پر جس نے مسلمانوں کو قتل کیا تھا اور جو اس کی تلوار سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کر رہا تھا مگر باوجود اس کے اس نے آخر میں اپنے اسلام کا اظہار کیا۔صحابی نے اس پر بدلنی کی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی پر کس قدر ناراض ہوئے تھے۔تمہارے پاس کس شخص پر بدظنی کرنے کے اتنے اسباب نہیں ہوتے مگر تم کرتے ہو۔اگر تم سمجھو تو یہ بدظنی ایسی بلا ہے کہ اس سے خدا اور رسول کی ناراضگی ہوتی ہے۔اپنے اندر حسن ظن کی عادت ڈالو۔اگر تم حسن ظنی کو نظر انداز کرو گے تو تمہاری جماعت میں ترقی نہ ہوگی۔اللہ تعالی توفیق دے کہ آپ لوگ اس خلق عظیم کو سمجھیں اور اس کے مطابق آپ کی زندگیاں ہو جائیں۔۔۔۔ا مسلم کتاب الایمان باب من ما مت لا یشرک بالله دخل الجنته ۲ سیرت ابن ہشام جزو اول حالات اسلام عمر بن الخطاب رضی اللہ الفضل ۷۴ دسمبر (۱۳)