خطبات محمود (جلد 8) — Page 255
255 درہم برہم ہو جائیں۔شریعت اسلام نے ایسے مواقع پر بھی جہاں بدظنی کے کچھ وجوہ موجود ہوں حسن ظن کرنے پر اپنے امور کی بنیاد رکھی ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک جنگ کے موقع پر ایک مسلمان نے ایک کافر پر حملہ کیا۔وہ اس حملہ سے بچنے کے لئے کسی درخت کی اوٹ میں ہو گیا۔مسلمان نے اس کو مجبور کیا کہ وہ درخت سے ہٹ جائے۔آخر جب کا فر نے اپنی جان بچتی نہ دیکھی تو لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھ لیا۔بعض نے لکھا ہے کہ چونکہ کفار مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے اس لئے اس نے کہا کہ میں صابی ہوتا ہوں۔جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہیں کہ اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں۔اس صحابی نے اس کو نہ سمجھا اور مار دیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خبر ہوئی تو آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ احادیث میں آتا ہے کہ ایسے کبھی ناراض نہ ہوئے تھے۔صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ جھوٹا تھا اور بچنے کے لئے مسلمان بنتا تھا۔اور آپ نے فرمایا هل شققت قلبه هل شققت قلبه هل شققت قلبه ا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا۔کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔چاہے وہ کتنا بڑا قاتل تھا اور اس نے مسلمانوں کو کتنا ہی نقصان پہنچایا تھا۔بہر حال جب اس نے کہا کہ میں مسلمان ہو تا ہوں تو تمہیں کیسے پتہ لگا کہ وہ جھوٹ بولتا تھا۔بظا ہر حالات دیکھئے کہ اس شخص کے خلاف کس قدر حالات موجود ہیں اور اس کے مقابلہ میں اس صحابی کی بات درست معلوم ہوتی ہے لیکن جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ عقل اور اخلاق کو نظر انداز کرتے ہیں۔اور جو لوگ عمیق مطالعہ کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کس طرح بعض دفعہ بجلی کی طرح حالات کھل جاتے ہیں۔حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے نکلے تھے مگر راستہ میں کس طرح مسلمان ہو گئے تھے۔کیا ایک شخص جو بہت بڑا بہادر ہو اور اس کے مقابلہ میں اٹھارہ سالہ نوجوان نکلے وہ تلوار لے کر اس کے مقابلہ میں آئے اور ایسا حملہ کرے کہ وہ بہادر اپنی حفاظت نہ کر سکے تو کیا یہ ناممکن ہے کہ اس کے دل میں یہ بات پڑ جائے کہ یہ انسانی طاقت نہیں بلکہ کوئی اور طاقت ہے جو ان کے ساتھ ہے اور اس خیال کے ساتھ ہی وہ مسلمان ہو جائے۔اگر بدظنی نہ ہو تو کیا ایسی استثنائی صورتیں نہیں جن سے اس شخص کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے۔حضرت عمرؓ کے واقعات یہ ہیں کہ وہ تلوار لے کر گھر سے چلے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کریں۔ایک شخص نے راستہ میں پوچھا تو انہوں نے اپنا ارادہ بتایا۔اس نے کہا کہ پہلے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔چنانچہ وہ گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اتفاق سے وہاں ایک صحابی تھے اور وہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔وہ ڈر گئے۔جب یہ اندر آگئے تو انہوں نے اصرار کیا کہ دکھاؤ کیا پڑھتے تھے۔پہلے تو وہ ٹالتے رہے آخر انہوں نے سختی کی۔یہاں تک کہ بہن کو مارا اور اس کے