خطبات محمود (جلد 8) — Page 247
247 42 الانذار (فرموده ۲۳ نومبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب بھی وہ اپنا کوئی مامورو مرسل دنیا میں بھیجتا ہے تو اس کی شان اور اس کے درجہ اور رتبہ کے مطابق اس کے ساتھ ملائکہ کی فوجیں بھیجتا ہے۔کیونکہ وہ روحانی بادشاہ ہوتا ہے اور کوئی بادشاہ بغیر فوج کے نہیں ہو سکتا۔ہمیشہ نادان کافر اور جاہل معترض کہا کرتے ہیں کہ اس نبی کے پاس تو فوج نہیں۔مگر چونکہ نبی جسمانی بادشاہ نہیں ہوتا۔روحانی ہوتا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ روحانی فوجیں ہوتی ہیں۔اس کا تخت روحانی ہوتا ہے۔اس کا تاج روحانی ہوتا ہے۔اس لئے اس کی فوجیں بھی روحانی ہوتی ہیں۔جبکہ دنیاوی بادشاہ اپنی حکومت تلواروں کے زور سے قائم رکھنا چاہتے ہیں اور جبر اور زور سے اپنی حکومت منواتے ہیں اور اپنی توپوں اور بندوقوں سے دشمن پر زور ڈالتے ہیں۔اس وقت انبیاء اپنی دعاؤں کے گولوں سے مخالفین کو زیر کرتے ہیں اور دوستوں کی مدد کرتے ہیں۔ظاہری حکومتیں تلاش کر کے اپنی فوجوں میں بہادر قوموں سے جوان بھرتی کرتی ہیں۔مگر نبیوں کی فوج میں فرشتوں کی بھرتی ہوتی ہے۔پھر بادشاہ ظاہری سامانوں میں اپنے دشمن کو غارت کرتے ہیں تو انبیاء کے دشمن آسمانی سامانوں سے غارت کئے جاتے ہیں۔انبیاء میں تمام بادشاہوں کی باتیں ہوتی ہیں بلکہ ان سے زیادہ ہوتی ہیں۔وہ تاج و تخت و حکومت کے مالک ہوتے ہیں۔مگر انکی یہ سب چیزیں روحانی ہوتی ہیں اور ان کے سب سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں۔جس طرح ظاہری حکومتوں کے باغی ہلاک کئے جاتے ہیں اسی طرح انبیاء کے دشمن باطنی سامانوں سے باطنی پھانسی دئے جاتے ہیں جہیں طرح حکومتوں کے دشمن تلوار کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں اسی طرح انبیاء کے دشمن جن کے حالات سے خدا تعالیٰ خوب واقف ہوتا ہے ان سے وہی سلوک کرتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ظاہری حکومت کے قیدی قید میں رہ کر خوش ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔لیکن خدا جس کو قید