خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 231

231 39 میدان شدھی میں کام کرنے والوں کی ضرورت (فرموده ۲ نومبر ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میرے پچھلے خطبوں میں اس بات کے متعلق زور دیا گیا ہے کہ ہمارا کام دنیا کی اصلاح ہے اور اس کام کے لئے تمام دنیا پر نظر ڈالیں تو صرف ہماری جماعت ہی ایسی نظر آتی ہے جو اس مقصد کو لیکر کھڑی ہوئی ہے کیونکہ ان کوششوں میں سے جو دنیا کے لئے موجب اصلاح ہو سکتی ہیں اور جن کے ذریعہ سے امن قائم ہو سکتا ہے ایک بہت بڑی کوشش اور بہت بڑا ذریعہ تبلیغ اسلام ہے اور یہ ذریعہ ہماری جماعت ہی استعمال کرتی ہے۔گو جس پہلو کو میں نے نمایاں طور پر لیا تھا وہ دنیوی حصہ ہے مگر بوجہ ان ایام اور خاص حالات کے جو پچھلے دنوں پیدا ہو گئے تھے وہی پہلو مقدم تھا اور حالات کے لحاظ سے ضروری تھا۔یوں تو تبلیغ ہماری جماعت ہمیشہ کرتی ہے اور جب تک وہ اپنے مقام کو سمجھتی رہے گی وہ ہمیشہ تبلیغ اسلام ہی کرتی رہے گی لیکن بعض اوقات خاص قسم اور خاص طور پر تبلیغ کرنی پڑتی ہے۔اس زمانہ میں جو تبلیغ کا پہلو اللہ تعالی نے نکالا ہے وہ اپنے اندر خصوصیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں ہم کو جنگی طور پر تبلیغ کرنی پڑتی ہے۔اس رنگ میں تبلیغ مسلمانوں میں بھی کبھی نہیں ہوئی بلکہ ۱۳۰۰ سال کے اندر اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔پہلے زمانہ میں انفرادی طور پر تبلیغ ہوتی تھی اور ایک حصہ ملک کا دوسرے حصہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا اور نہ ایک کا اثر دوسرے پر پڑتا تھا۔امریکہ والوں کا جرمنی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔جرمنی کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ایک ملک کی فتح دوسرے کی فتح کا موجب نہیں ہوتی تھی اور نہ ایک کا نقصان دوسرے کے نقصان کا باعث ہو تا تھا۔اس طرح جن جن علاقوں میں مبلغ ہوتے تھے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا ہر ایک علیحدہ علیحدہ کام کرتا تھا۔وہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے تھے اور نہ مل کر کام کرنے کا موقع ملتا تھا۔اسی وجہ سے ایک کی کامیابی دوسرے کی کامیابی کا باعث نہیں ہوتی تھی۔وہ صرف افراد کا ہی کام تھا اور وہ تبلیغ اپنی ذات میں افراد کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔مگر اس زمانہ