خطبات محمود (جلد 8) — Page 219
219 خاموشی ناممکن ہے۔پس اس بات کی نہ ہم ان سے امید رکھتے ہیں اور نہ وہ ہم سے رکھیں کہ ہم اس قسم کا اقرار کر سکتے ہیں۔اتفاق اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں۔مخالفت نہ کی جائے۔تبلیغ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے جو مبلغ جہاں رہتا ہے وہاں دوسرے عقائد کا مبلغ نہ جائے۔اور اگر جائے تو اختلافی مسائل نہ چھیڑے۔اگر کوئی مبلغ ملکانوں کو یہ بھی سکھلائے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں تو ہمارے نزدیک ملکانوں کی حالت اس سے اچھی رہے گی کہ وہ آریہ ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے گا۔اس لئے ہم اس وقت اس کے متعلق کچھ نہ کہیں گے۔پس چاہیے کہ مبلغ اپنے اپنے علاقہ میں کام کریں اور ایک دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔اس بات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہم ہر وقت تیار ہیں۔مگر یہ کہ ہم احمدیت کو چھپائیں یہ امید ہم سے قطعا نہیں رکھنی چاہئیے صلح کے معنی فراعی مسائل کو نہ چھیڑنے کے ہیں اصولی مسائل کو چھپانا مداہنت ہے جسے ہم ہرگز اختیار نہیں کرتی ہے۔دوسرے علاقوں میں بھی ہم اسی قسم کی صلح کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ کوئی شخص اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کرے یا ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں۔بلکہ اس کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ جن باتوں میں ہم ایک ہیں ان میں دشمن کے مقابلہ میں ایک ہو جائیں۔اور مسلمان کہلانے والا کوئی فرقہ دوسرے کو گالیاں نہ دے اور ایک دوسرے کے خلاف طبائع میں جوش نہ پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے کہ وہ اصول اور فروع کے فرق کو سمجھیں اور جان لیں کہ اصولی مسائل کے چھڑانے کا مطالبہ پاگل پن ہے اور ان کے سینوں کو کھولے تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اور یہ روز کے جھگڑے ہی مٹ جائیں۔آج ایک جنازہ پڑھاؤں گا۔جھنگ میں ہمارے ایک مخلص دوست غلام مصطفیٰ صاحب رہتے تھے جو بہت مخلص اور سلسلہ کے لئے محنت سے کام کرنے والے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے علاقے میں ایسے شخص تھے کہ ان کا جنازہ پڑھایا جائے۔الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۳ء)